واشنگٹن: امریکا میں H-1B واشنگٹن ،ورک ویزا لاٹری سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ویزا دینے کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے نیا ویٹڈ (Weighted) سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت زیادہ ہنر مند اور زیادہ تنخواہ پانے والے غیر ملکی ورکرز کو ترجیح دی جائے گی۔
امریکی محکمہ داخلہ (DHS) کے مطابق نیا قانون 27 فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور مالی سال 2027 سے تقریباً 85 ہزار H-1B ویزوں کی تقسیم اسی نئے طریقہ کار کے تحت کی جائے گی۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس (USCIS) کے ترجمان میتھیو ٹریگیسر کا کہنا ہے کہ موجودہ لاٹری سسٹم کو بعض امریکی کمپنیوں نے غلط استعمال کیا، جو امریکی ملازمین کے مقابلے میں کم اجرت پر غیر ملکی ورکرز لانا چاہتی تھیں۔
نئے سسٹم کے تحت H-1B ویزوں کی الاٹمنٹ میں تنخواہ اور مہارت کو بنیادی معیار بنایا جائے گا، جس سے انٹری لیول پروفیشنلز کے لیے امریکا میں کام حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ تبدیلی ان دیگر اقدامات کا تسلسل ہے، جن میں H-1B ویزا حاصل کرنے کے لیے اضافی 100 ہزار ڈالر فیس کی شرط بھی شامل ہے، جسے عدالت میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ ایک 10 لاکھ ڈالر کی ’گولڈ کارڈ ویزا اسکیم‘ بھی متعارف کرا چکے ہیں۔

