ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کی نماز جنازہ میں شرکت کی ، انہیں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا اس موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔
رپورٹ کے مطابق شریف عثمان ہادی کی بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کے ہاتھوں شہادت کےبعد بنگلہ دیش میں دو روز سے پرتشدد مظاہرے جاری تھے۔ عثمان ہادی گزشتہ سال کی جمہوریت نواز تحریک کی ایک اہم شخصیت تھے۔ ہادی کا جمعرات کو سنگاپور کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔
باڈی کیمرے پہنے پولیس اہلکار پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تعینات تھے، جہاں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہادی کی میت، جسے جمعے کو دارالحکومت لایا گیا، ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد میں سپرد خاک کیا گیا۔عبوری رہنما محمد یونس نے ایک جذباتی تقریر میں کہا ہم یہاں الوداع کہنے کے لیے نہیں ہیں۔ آپ ہمارے دلوں میں ہیں، اور جب تک یہ ملک موجود ہے آپ تمام بنگلہ دیشیوں کے دلوں میں رہیں گے۔
یادرہے پرتشدد احتجاج کے دوران مظاہرین نے ڈھاکہ میں کئی عمارتوں کو آگ لگا دی، جن میں سرکردہ اخبارات پرتھم الو اور ڈیلی سٹار کے دفاتر بھی شامل ہیں۔
ناقدین نے ان اخبارات پر پڑوسی ملک بھارت کا ساتھ دینے کا الزام لگایا، جہاں بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ نے 2024 کی بغاوت کے بعد ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد پناہ لی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہفتے کے روز بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ ہادی کے قتل اور اس کے بعد ہونے والے تشدد کی "تیز، مکمل، آزاد اور غیر جانبدارانہ” تحقیقات کرے۔
32 سالہ ہادی بھارت کے ایک بھرپور نقاد تھے اور فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے تھے۔ نماز جنازہ کے موقع پر بنگلہ دیشی شہریوں کا کہنا تھا کہ ہادی کو اس لیے شہید کیا گیا کیونکہ وہ بھارت کی شدید مخالفت کرتے تھے۔ تاہم وہ ان لاکھوں بنگلہ دیشیوں کے درمیان ہمیشہ زندہ رہیں گے جو اس سرزمین اور اس کی خودمختاری سے محبت کرتے ہیں۔

