تہران: ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت دے دی ہے۔
عدلیہ کی پریس ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی ایران اور اسرائیل کے درمیان جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد دی جانے والی تازہ ترین پھانسی ہے۔
اطلاعات کے مطابق عقیل کشورز کو “صہیونی حکومت کے لیے جاسوسی، اس سے رابطے اور تعاون، اور فوجی و سکیورٹی تنصیبات کی تصاویر لینے” کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس کی سزائے موت سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نافذ کی گئی۔
میزان کے مطابق، مذکورہ شخص اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ایجنٹ تھا اور اسے اپریل اور مئی کے درمیان شمال مغربی ایران کے شہر ارومیہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جنگ کے بعد ایران نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کے شبہ میں گرفتار افراد کے خلاف تیز رفتار مقدمات چلائے جائیں گے۔ اب تک موساد کے لیے کام کرنے کے جرم میں کم از کم 10 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

