سڈنی: آسٹریلیا کی پولیس گزشتہ ہفتے بوانڈائی بیچ پر حملہ کرنے والوں سے تعلق کے شبے میں سات افراد کو حراست میں لیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق نے پولیس کا کہنا ہے کہ سڈنی کے جنوب مغربی علاقے سے حراست میں لیے گئے سات افراد ممکنہ طور پر ان دو مسلح حملہ آوروں سے نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں جنہوں نے گزشتہ اتوار کو بونڈائی بیچ پر ’حنوکا‘ کی تقریب پر فائرنگ کر کے 15 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
نیو ساؤتھ ویلز کے ڈپٹی پولیس کمشنر ڈیو ہڈسن نے جمعے کو اے بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ ان افراد اور حملہ آوروں کے درمیان تاحال کسی براہ راست تعلق کے شواہد نہیں ملے تاہم ان کی سوچ میں ہم آہنگی پائی گئی ہے۔کومت نے حملے کو ایک ہفتہ مکمل ہونے پر ملک بھر میں ڈے آف ریفلیکشن یعنی ’یومِ فکر‘ منانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں اتوار(21 دسمبر) کی شام ٹھیک اسی وقت جب یہ حملہ شروع ہوا تھا، آسٹریلوی شہریوں سے شمعیں روشن کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن یہودی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور اس عزم کو دہرانے کا موقع ہے کہ نفرت اور تشدد آسٹریلوی معاشرے کی پہچان نہیں بن سکتے۔وزیراعظم انتھونی البانیز نے ملک گیر سطح پر اسلحے کی واپسی (گن بائی بیک) کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سکیم کے تحت حکومت شہریوں سے زائد، نئے ممنوعہ اور غیرقانونی ہتھیار خرید کر انہیں تلف کرے گی۔
سڈنی بونڈائی بیچ حملہ آوروں سے تعلق کے شبہ میں 7 افراد گرفتار،اسلحہ واپسی مہم شروع

