واشنگٹن :امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے 11 ماہ مکمل ہونے پر وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرف ان کا پسندیدہ انگریزی لفظ ہے اور اسی پالیسی کی مدد سے انہوں نے اپنے پہلے 10 ماہ میں دنیا بھر میں پاک بھارت سمیت 8 جنگیں رکوائیں۔ ٹرمپ کے مطابق ٹیرف نہ صرف امریکا کے لیے ایک مؤثر سفارتی ہتھیار ثابت ہوئے بلکہ ان کی بدولت امریکی معیشت نے توقع سے کہیں زیادہ آمدنی بھی حاصل کی۔
خطاب میں ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار سنبھالتے وقت انہیں ایک بڑا بحران وراثت میں ملا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث امریکا آج پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے اور دنیا اب امریکا کا مذاق نہیں اڑاتی بلکہ اس کا احترام کرتی ہے۔
President Trump’s full address to the nation: pic.twitter.com/yctJSathBf
— America (@america) December 18, 2025
ٹرمپ نے زور دیا کہ کینیڈا، میکسیکو، برازیل اور ہندوستان سمیت متعدد ممالک پر عائد ٹیرف سے امریکی معیشت کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیرف کے نتیجے میں امریکا نے اندازوں سے زیادہ رقم کمائی، جس سے مستقبل میں ایک بڑے معاشی ابھار کی بنیاد پڑے گی۔ تاہم انہوں نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر تفصیلی گفتگو سے گریز کیا، البتہ یہ ضرور کہا کہ گروسری، گاڑیوں اور دیگر اشیا کی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں اور توانائی و خوراک کی قیمتیں قابو میں ہیں۔
دوسری جانب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ برقرار ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اپریل سے ستمبر 2025 کے دوران غذائی اشیا کی قیمتوں میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا، جس میں بیف اور کیلے کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیرف کے باعث امریکی خاندانوں کے سالانہ اخراجات اوسطاً دو سے آٹھ لاکھ روپے تک بڑھ گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مسلح افواج کی خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں امریکیوں کو خصوصی نقد رقم دینے کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے واریئر ڈیویڈنڈ کا نام دیا ہے۔ اس ادائیگی کو انہوں نے امریکا کے قیام کے سال 1776 سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 14 لاکھ 50 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں کو کرسمس سے قبل 1,776 ڈالر فی کس دیے جائیں گے۔
وہ ایکٹیو ڈیوٹی فوجی اہلکار جو او-6 یا اس سے کم رینک پر فائز ہیں اور 30 نومبر 2025 تک ایکٹیو ڈیوٹی پر موجود ہوں۔
ریزرو فورس کے وہ ارکان جو 31 دن یا اس سے زائد ایکٹیو ڈیوٹی آرڈرز پر ہوں اور 30 نومبر 2025 تک سروس انجام دے رہے ہوں۔ ان سب کووارئیر ڈیویڈنڈ ملے گا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غیر قانونی تارکینِ وطن پر بھی سخت موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد امریکی ملازمتیں چھین رہے ہیں، رہائشی بحران پیدا کر رہے ہیں اور صحت و تعلیم کی سہولتوں پر بوجھ بن رہے ہیں۔ تاہم رپورٹس کے مطابق تارکینِ وطن زراعت اور تعمیرات جیسے شعبوں میں معیشت کو سہارا دیتے ہیں اور ٹیکس کی صورت میں زیادہ حصہ واپس کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے ہندوستان-پاکستان کشیدگی سمیت مختلف تنازعات میں ثالثی کے دعوے بھی دہرائے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہندوستان پر عائد ٹیرف مستقبل میں مرحلہ وار کم کیے جائیں گے کیونکہ روسی تیل کی خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کی شام اپنے خطاب کا آغاز جن الفاظ سے کیا اُن میں پوری تقریر کا مرکزی خیال سمویا ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ: ’گیارہ ماہ پہلے انہوں نے ایک بگڑی ہوئی صورت حال سنبھالی تھی اور اب وہ اسے درست کر رہے ہیں۔‘
سادہ الفاظ میں ان کا پیغام یہ تھا کہ جو مسائل ہیں وہ ان کی وجہ سے نہیں ہیں۔
امریکی صدر نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے حوالے سے عوام کی تشویش کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 20 منٹ کے خطاب میں سابق صدر جو بائیڈن کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان کا نام سات مرتبہ لیا۔
معیشت کا مسئلہ ہو، جرائم ہوں، صحت کا نظام ہو یا خراب امیگریشن پالیسی، صدر ٹرمپ کے مطابق ان سب کے ذمہ دار جو بائیڈن ہیں۔انہوں نے آخر میں مختصر طور پر کرسمس اور نئے سال کی مبارکباد دی۔

