واشنگٹن :امریکا میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے اُن ملکوں سے آنے والے سیاحوں پر بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دکھانا لازمی قرار دینے کا منصوبہ بنایا ہے جن کو امریکی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک سرکاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ویزے سے مستثنیٰ غیرملکی سیاحوں کو ملک میں داخل ہونے سے قبل گزشتہ پانچ برس کی اپنی سوشل میڈیا ہسٹری ظاہر کرنے کا حکم دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ڈرل رجسٹر میں منگل کو شائع ہونے والے نوٹس میں دی گئی تجویز کا اطلاق برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور جاپان سمیت 42 ممالک کے ان سیاحوں پر ہوگا جنہیں امریکا میں داخلے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں۔
ان ممالک کے باشندوں کو امریکا میں 90 دن سے کم قیام کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اب تک رائج قواعد کے مطابق ان مسافروں کو اس سے چھوٹ کے لیے درخواست دینے کی ضرورت ہوتی ہے جس کو ’الیکٹرانک سسٹم فار ٹریول اتھارائزیشن‘ کہا جاتا ہے۔ ان ملکوں سے آنے والے سیاحوں کو چند ذاتی تفصیلات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔
85,000 visa revocations since January.
President Trump and Secretary Rubio adhere to one simple mandate, and they won’t stop anytime soon⤵️ pic.twitter.com/fbNYw9wj71
— Department of State (@StateDept) December 9, 2025
مجوزہ نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا ڈیٹا کا مجموعہ ’الیکٹرانک سسٹم فار ٹریول اتھارائزیشن‘ ایپلی کیشنز کا ’لازمی‘ حصہ بن جائے گا۔
نوٹس کے مطابق درخواست دہندگان کو گزشتہ پانچ برس کی اپنی سوشل میڈیا ہسٹری فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔
انہیں دیگر ’ہائی ویلیو ڈیٹا فیلڈز‘ بھی جمع کرانا ہوں گی جن میں پچھلے پانچ برس میں استعمال کیے گئے فون نمبرز، پچھلی دہائی کے ای میل ایڈریس، فیملی ممبرز کی ذاتی تفصیلات اور بائیو میٹرک معلومات شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنوری سے اب تک 85 ہزار ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ یہ امیگریشن قانون اور سرحدی سلامتی پر ٹرمپ انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی توجہ کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے لکھا کہ "جنوری سے 85,000 ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور سیکرٹری روبیو ایک آسان سے فارمولے پر عمل کرتے ہیں اور وہ جلد ہی رکنے والے نہیں ہیں۔ یہ امیگریشن قانون کے سخت نفاذ کے لیے انتظامیہ کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔”
اس بیان کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی جس "امریکا کو دوبارہ محفوظ بنائیں” کا کیپشن درج تھا۔ ویزا پروسیسنگ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ منسوخ کیے گئے ویزوں میں سے 8000 سے زیادہ طلباء کے تھے۔

