اسلام آباد:وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شرکت کے لیے پاکستان اپنے فوجی بھجوانے کے لیے تیار ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کے کام میں شامل نہیں ہو گا۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی کے مطابق، سنیچر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔
غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے آئی ایس ایف کے کردار کے بارے میں انھوں نے واضح کیا کہ دیگر اہم ممالک کی طرح پاکستان بھی اس کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر کارروائی کرنا چاہتا تھا لیکن قطر نے روکا اور ثالثی کی پیشکش کی جس کے بعد کارروائی نہیں کی گئی۔
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کاکہناہے کہ پاکستان نے افغانستان سے کہا ٹی ٹی پی کو پاک افغان بارڈر سے دور لے جائیں، یا پھر ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کردیں۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں نائب وزیر اعظم نے حالیہ دورہ ماسکو، بحرین اور برسلز کے حوالے میڈیا کو بریف کیا۔
نیوز کانفرنس سے خطاب میں نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار بتایا کہ انہوں نے ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے۔ماسکو میں ایس سی او سربراہان حکومت کے اجلاس میں پاکستان کی معاشی ترجیحات پر بات کی، پاکستان کا علاقائی روابط، توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مؤقف پیش کیا۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ یورپی یونین کے 27 ممالک کو بتادیا کہ افغانستان نے انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ افغانستان کے دورے میں امیر متقی نے کہا تھا کہ انہوں نے چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے لیکن ان پر واضح کردیا کہ چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں۔افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے استعمال سے روکے۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ بھارت پاکستان کے خلاف پراکسی وار بند کرے ۔
محمد اسحاق ڈار نے مزیدکہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے افغان عوام کی امداد کی بحالی کی درخواست موصول ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کے لیےامداد اور خوراک جانے کی اجازت زیر غور ہے
بی بی سی کے مطابق اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پرتشدد واقعات میں کمی نہیں ہو رہی بلکہ یہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ ان کی خام خیالی ہے کہ ہم اس کو حل نہیں کر سکتے۔ اللہ نے پاکستان کو قوت دی ہے ہم اس پر کارروائی کر سکتے ہیں اور چیزوں کو بالکل ٹھیک کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی ٹھیک نہیں کہ ہم اپنے بھائی کے گھر جا کر ان کو گھس کر ماریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مناسب نہیں کہ کسی دوست ملک کے لیے کہا جائے لیکن وہ (قطر)اب خود اپ سیٹ ہیں کہ انھوں نے ثالثی کروائی اور نتیجہ نہ نکل سکا۔مجھے ایران کے وزیر خارجہ نے چند روز قبل فون کیا کہ اگر آپ چاہیں تو افغانستان، قطر، ترکی ایران سمیت کچھ ممالک بات کرنے کے لیے بیٹھ جائیں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے مسلمان اور غیر مسلم ممالک اکھٹے ہو کر کام کریں گے تو کیا بہتر نہیں کہ ہم اپنے خطے کو پر امن کر لیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگست میں افغانستان سے جا کر کہا کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔ ہم نے متقی صاحب کو ساتھ کھڑا کر کے تمام وعدے وعید بتائے اور کہا کہ پاکستان کے خلاف اہنے ملک کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرنے دیں۔‘
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغان سرد جنگ کے دوران نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا، نیٹوہیڈ کوارٹرز میں نیٹو سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی، یورپی یونین کے آٹھ ممبرز سے بھی ملاقات ہوئی، پاکستان نے افغان سرد جنگ کے دوران نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا۔‘
اسحاق ڈار نے اپنے غیر ملکی دوروں اور پاکستان کی سفارتی مصروفیات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ماسکو اجلاس میں پاکستان کی معاشی ترجیحات کا موقف پیش کیا، ایس سی او کانفرنس میں وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی جانب سے شعبہ توانائی اور باہمی روابط بارے گفتگو کی۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سترہ اور اٹھارہ کو روس کا دورہ کیا جس میں صدر پوتن کو پاکستان کےدورے کی دعوت دی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او ممالک کے ساتھ روابط کے مزید فروغ پر بھی غور ہوا۔‘

