نئی دہلی :جسٹس سوریہ کانت نے پیر کو بھارت کے 53 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے، بہار کے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور پیگاسس اسپائی ویئر سمیت متعدد کیسز میں کئی تاریخی فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے ہیں۔
صدر جموریہ مرمو نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں جسٹس کانت سے حلف لیا۔ وہ جسٹس بی آر گوائی کی جگہ لیں گے، جو اتوار کو عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
اس سے قبل جسٹس کانت کو 30 اکتوبر کو اگلا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 15 ماہ تک اس عہدے پر رہیں گے۔ وہ 9 فروری 2027 کو 65 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہوں گے۔ ان کی حلف برداری تقریب میں نائب صدر جموریہ سی پی رادھا کرشنن اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔
جسٹس سوریہ کانت کون ہیں ؟
10 فروری 1962 کو ہریانہ کے حصار ضلع میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے جسٹس کانت ایک چھوٹے شہر کے وکیل کی حیثیت سے ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی دفتر تک کا سفر طے کیا، جہاں وہ قومی اور آئینی اہمیت کے حامل کیسز کے متعدد فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے۔ انہیں کروکشیتر یونیورسٹی سے سنہ 2011 میں قانون میں اپنی ماسٹر ڈگری میں ‘فرسٹ کلاس فرسٹ’ سے پاس ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
آزادی اظہار کے سب سے بڑے حامی
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں کئی قابل ذکر فیصلے لکھنے والے جسٹس کانت کو پانچ اکتوبر 2018 کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ سپریم کورٹی کے جج کے طور پر ان کا دور آرٹیکل 370، آزادی اظہار اور شہریت کے حقوق کی منسوخی کے فیصلوں سے عبارت ہے۔
کالونیل ازم کے دور کے غداری ، بغاوت کے قانون کا خاتمہ
وہ ریاستی اسمبلی سے منظور شدہ بلوں سے نمٹنے میں گورنر اور صدر کے اختیارات پر حالیہ صدارتی ریفرنس کا بھی حصہ رہے۔ وہ اس بنچ کا حصہ تھے جس نے نوآبادیاتی دور کے ‘غداری/بغاوت’ قانون کو التواء میں رکھا تھا اور یہ ہدایت دی تھی کہ حکومت کی نظرثانی تک اس کے تحت کوئی نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔
ووٹر لسٹوں کی تفصیلات منظر عام پر لانے کا حکم جاری کیا، صنفی تعصب کے مخالف
جسٹس کانت نے الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کے بیچ کی سماعت بہار میں انتخابی فہرستوں کے مسودہ سے خارج 65 لاکھ ووٹروں کی تفصیلات کو منظر عام پر لانے کے لیے ہدایت بھی دی۔ایک خاتون سرپنچ کو غیر قانونی طریقے سے عہدے سے ہٹانے کے معاملے میں بھی جسٹس سوریہ کانت نے بنچ کی قیادت کی تھی جس نے ایک حکم میں نچلی سطح پر جمہوریت اور صنفی انصاف پر زور دیا اور اس معاملے میں صنفی تعصب قرار دیا۔ انہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر بار ایسوسی ایشنز میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے کا سہرا بھی دیا جاتا ہے۔
فوج کے لئے “ون رینک ون پنشن“ کے حق میں فیصلہ
جسٹس کانت اس بنچ کا حصہ تھے جس نے سنہ 2022 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سکیورٹی کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی اور کہا کہ اس طرح کے معاملات کے لیے "عدالتی طور پر تربیت یافتہ ذہن” کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دفاعی افواج کے لیے ون رینک ون پنشن اسکیم کو بھی برقرار رکھا، اسے آئینی طور پر درست قرار دیا، اور مسلح افواج میں خواتین افسران کی مستقل کمیشن میں برابری کی درخواستوں کی سماعت جاری رکھی۔
جسٹس کانت سات ججوں کی اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے سنہ 1967 کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا، جس سے ادارے کی اقلیتی حیثیت پر نظر ثانی کا راستہ کھل گیا تھا۔
قومی سلامتی کی آڑ میں ریاست کیلئے کوئی “مفت پاس“ نہیں
وہ اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے پیگاسس اسپائی ویئر کیس کی سماعت کی اور غیر قانونی نگرانی کے الزامات کی جانچ کے لیے سائبر ماہرین کا ایک پینل مقرر کیا اور وہ مشہور ریمارکس دیا کہ ریاست کو "قومی سلامتی کی آڑ میں مفت پاس” نہیں مل سکتا۔

