تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
یہ لاہور کی وہ تصویر ہے جو کبھی صرف مثالی کہانیوں میں ملتی تھی، جہاں پولیس اسٹیشنوں کے در و دیوار پر لٹکی ہدایات ہوا میں لہراتی تو تھیں مگر ان کا مقصد شاید صرف دیواریں بھرنا ہوتا۔ فائلیں دھول میں اٹی ہوئی، سائلین کی آہیں دبتی ہوئی، اور انصاف کسی ایسے خواب کی طرح جس کی تعبیر برسوں بعد بھی نہ مل سکے۔ مگر اب جیسے شہر کی فضا نے نیا رخ لے لیا ہو۔ انویسٹی گیشن پولیس میں ایک ایسی تازگی محسوس ہو رہی ہے جیسے کوئی بند کمرہ یکایک روشن ہو جائے، دھوپ اندر آ کر فرش پر چمکنے لگے اور زنگ آلود امیدوں پر نیا رنگ چڑھ جائے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید نے صرف اپنا دفتر وسیع نہیں کروایا، ایک سوچ وسیع کی ہے۔ اُن کے دفتر کی کھلی جگہیں محض اینٹوں کا اضافہ نہیں۔ یہ وہ علامت ہے جس نے برسوں کے ستائے سائلین کو پہلی بار یہ احساس دلایا ہے کہ انصاف کسی بند دروازے کے پیچھے نہیں بلکہ ان کے سامنے بیٹھ کر کیا جاتا ہے۔ پہلے جس چھوٹے سے کمرے میں ایک ہی شخص کی دبی دبی آواز بمشکل سنی جاتی تھی، آج اسی جگہ پر درجنوں شہری ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ ان کی فائلیں دفتری درازوں میں گم ہونے کے بجائے فیصلوں میں ڈھل رہی ہیں۔
تبدیلیٔ تفتیش بورڈ کی حالیہ کارروائی نے اس نئے دور کی بنیاد کو اور مضبوط کر دیا ہے۔ قتل، دھوکہ دہی، چیک ڈس آنر، امانت میں خیانت اور چوری جیسے 34 مقدمات ایک ہی نشست میں زیر بحث آئے—یہ معمول کی بات نہیں۔ برسوں سے انصاف کے صحرا میں بھٹکنے والے مدعی جب ایک ہی دن میں سنے جاتے ہیں، تو وہ صرف مقدمات نہیں ہوتے، وہ انسانی زندگیاں ہوتی ہیں جن کے کندھوں سے بوجھ اُترتا محسوس ہوتا ہے۔ ارشد عباس کی آنکھوں میں شاید پہلی بار روشنی لوٹی، شہناز کوثر کی تھکی ہوئی آواز میں زندگی کی جھلک آئی، محمد اکرم کے لہجے سے خوف کی گرفت کم ہوئی اور محمد ناصر نے ایسا محسوس کیا کہ اس کا انتظار بے مقصد نہیں تھا۔ مگر انصاف کا سفر صرف سننے پر ختم نہیں ہوتا—اصل لڑائی احتساب کی ہوتی ہے۔ پولیس محکمے کی وہ کالی بھیڑیں جو شہری کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں، اب ان کے گرد دائرہ تنگ ہونے لگا ہے۔ 41 شوکاز نوٹسز کی ایک ہی دن میں سماعت، چار اہلکاروں کی برطرفی، کئی کی تنزلیاں، سروس ضبطگیاں، اور پورے سال کے 1132 شوکاز، یہ محض ایک لسٹ نہیں، یہ وہ ارتعاش ہے جس نے پولیس کے اندر موجود جمود کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ برسوں سے دیمک کی طرح ادارے کو چاٹنے والی خامیاں اب کٹنے لگ گئی ہیں، اور اس کٹائی کا اثر پورے محکمے میں محسوس ہو رہا ہے۔
یہ تبدیلی صرف پولیس لائنز کی حد تک محدود نہیں۔ شہر کے چوراہوں، گلیوں، تھانوں اور عدالتوں میں گفتگو بدل رہی ہے۔ چائے کے ہوٹلوں پر سرگوشیوں کا انداز مختلف ہے۔ لوگ حیرت سے کہتے ہیں، لگتا ہے اب واقعی کچھ ہونے لگا ہے۔یہ جملہ، جو کبھی طنز سمجھا جاتا تھا، آج امید کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایس ایس پی محمد نوید کا یہ اعلان کہ میرے دفتر کے دروازے ہر شہری کے لیے کھلے ہیں۔ اب کوئی رسمی اعلان نہیں لگتا۔ یہ دروازے واقعی کھل رہے ہیں، اور ہر دستک اب فیصلہ بن رہی ہے، دھول بھری فائل نہیں۔
انصاف کا راستہ کبھی ہموار نہیں رہا۔ یہ پیچ در پیچ راستہ ہے، جس میں کبھی موڑ حیران کرتے ہیں اور کبھی گلیاں مایوس۔ مگر جب اسی راستے پر کھڑے محافظ بیدار ہوں، جب تفتیش کتابی نہیں بلکہ عملی انصاف کا نمونہ بن جائے، اور جب شہری کی دہائی کو محض ایک کاغذ نہ سمجھا جائے۔ تب ناممکن کے راستے بھی قدموں تلے آ جاتے ہیں۔ لاہور کی انویسٹی گیشن پولیس آج اسی مقام پر کھڑی ہے۔ جہاں امید صرف نعرہ نہیں، ایک عمل ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو ممکن ہے آنے والا دور پولیس کو خوف یا بداعتمادی کی علامت کے بجائے اعتماد اور انصاف کی مثال بنا دے۔ اور یہ وہ لمحہ ہو گا جب لاہور کے لوگ کہیں گے۔ کبھی ایک وقت تھا جب پولیس نے واقعی اپنے شہریوں کو اپنا سمجھا تھا اور ہم نے بھی انہیں اپنا مان لیا تھا۔


