اسلام آباد :سینیٹ میں پیش ہونے والے 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کی تفصیلات سامنے آگئیں، جس میں آئین پاکستان کے 48 آرٹیکلز میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات، چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق
آئین کے آرٹیکل243 میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ تحلیل کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے، ایک تجویز کے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات رہے گا۔
ججز کے تبادلے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سپرد کیے جانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جج نے جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر پر جانا ہے اور جس ہائیکورٹ میں جانا ہے، ان کے چیف جسٹس بھی تبادلے کے عمل کا حصہ ہوں گے۔
آئینی عدالت وفاق اور صوبوں کے تنازعات طے کرے گی
مسودہ کےمطابق وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی،سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کودیےجائیں گے،آئینی مقدمات اب سپریم کورٹ نہیں،وفاقی آئینی عدالت سنے گی،وفاقی آئینی عدالت کا صدرمقام اسلام آباد ہوگا،آئینی عدالت کووفاق اورصوبوں کے درمیان تنازعات سننےکا اختیار ہوگا۔
سپریم کورٹ محض اپیلوں، عمومی مقدمات کی عدالت رہ جائیگی
مسودہ کےمطابق سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی، وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی،وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔
سینیٹ انتخابات میں تاخیر سےہونےوالی قانونی ابہام دور کرنے کی تجویز ہے،سینیٹ کے نئے منتخب ارکان کی مدت میں تاخیرشدہ عرصہ شمارتصور ہوگا،سینیٹ کےانتخابات ایک ہی وقت پر کرائے جانے کی تجویز ہے،چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں شفافیت یقینی بنائی جائے گی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود
چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدےکی حیثیت محدود ہوجائے گی،سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی تجویزدی گئی ہے،آئینی عدالت کے فیصلےملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔
تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور ہوگا
آرٹیکل 206 میں ترمیم،سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور ہوگا،آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا،آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط رکھی گئی ہے۔
ججز کی تقرری میں وزیراعظم ،صدر کا اہم کردار
27ویں ترمیم کےذریعےججوں کی تقرری کا طریقہ کاربھی بدلا جائے گا،جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اورسپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہوں گے،تقرری میں وزیراعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا۔
آئینی عدالت کے ججز کی تعداد پارلیمنٹ طے کرے گی
پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کےججوں کی تعداد طےکرنےکا اختیار ملےگا، آئین کے آرٹیکل 42، 63A، 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویزپیش کی گئی ہے،مسودہ کےمطابق 27ویں ترمیم سےسپریم کورٹ کے اختیارات میں نمایاں کمی ہوگی۔
بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی تجویز
27 ویں آئینی ترمیم میں بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے، صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، صوبائی کابینہ کے مشیران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
ایک وقت میں پورے سینیٹ کےانتخابات
ایک وقت میں پورے سینیٹ کے انتخابات کرانے کے حوالے سے ترامیم بھی تجویز کی گئی ہیں، ایک تجویز کے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ ’تاحیات‘ رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

