واشنگٹن:سابق امریکی نائب صدر اور عراق اور افغانستان جنگوں کے آرکٹیکٹ ڈک چینی84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ڈک چینی نے نکسن سے لے کر جارج ڈبلیو بش تک سب امریکی صدور کے دفاتر میں خدمات انجام دیں، ان کو 9/11 کے بعد جس میں دنیا پھر میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور کروڑوں خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لئے بدل گئیں میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے یاد رکھا جائے گا۔
ڈک چینی، وائٹ ہاؤس کے سابق چیف آف اسٹاف، رکن کانگریس، سیکریٹری دفاع اور امریکی نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ۔
ڈک چینی ملک کے سب سے طاقتور نائب صدور میں سے ایک تھے، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کم تجربہ کار جارج ڈبلیو بش جونئیر پر بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے تھے بلکہ اصل صدر کا کردار پردے کے پیچھے وہی ادا کررہےتھے۔
چینی نیویارک اور واشنگٹن پر دہشت گردانہ حملوں کے دوران 11 ستمبر 2001 کو دفتر میں تھے۔ جب بش کو جلدی سے حفاظت گاہ کی طرف لے جایا گیا، چینی نے پالیسی کنٹرول سنبھالنے کے لیے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے ساتھ مل کر کام کیا۔
وہ 1990 اور 1991 میں صدام حسین کے خلاف پہلی خلیجی جنگ کے دوران وزیر دفاع رہے تھے، انہوں نے مارچ 2003 میں اس الزام پر صدر صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے ایک ایسا الزام جو جھوٹا ثابت ہوا اور جس پر سابق وزیراعظم ٹونی بلئیر کو عدالت نے مجرم قرار دیا کو لے کر عراق کے خلاف جنگ چھیڑی تھی ۔
براؤن یونیورسٹی کے واٹسن سکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے مطابق، 2001 سے عراق، افغانستان، شام، یمن اور پاکستان میں براہ راست جنگ کے تشدد سے کم از کم 800,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک بھی انتہائی متنازعہ ثابت ہوا۔ دفتر سے باہر، چینی نے 9/11 کے بعد زیر حراست افراد کے خلاف تشدد کے استعمال کا دفاع جاری رکھا۔
وہ رچرڈ نکسن کے تحت وائٹ ہاؤس کے معاون تھے۔ وائٹ ہاؤس کے سب سے کم عمر چیف آف اسٹاف، جیرالڈ فورڈ کے لیے؛ رونالڈ ریگن کے تحت کانگریس کے رکن؛ جارج ایچ ڈبلیو بش کے سیکرٹری دفاع اور جارج ڈبلیو بش کے نائب صدر۔

