کابل: شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف کے قریب زلزلہ آیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 10آٹھ افراد ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہونے ہیں۔ سینکڑوں مکان تباہ، ہلاکتوں میں ا ضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پیر کے روز شمالی افغانستان میں ایک طاقتور زلزلہ آیا۔ زلزلے کے جھٹکے تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں بھی محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.3 تھی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) کے مطابق پیر کو افغانستان میں 6.3 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔ زلزلے کا مرکز 23 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، سینٹر فار سیسمولوجی نے بتایا کہ زلزلہ صبح 01:59 پر آیا۔تنگی تاشقرغان میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک مسافر بس دب گئی، جس سے 10 افراد جاں بحق جبکہ 43 زخمی مختلف علاقوں سے اسپتال منتقل کیے گئے۔
زلزلےکے جھٹکے افغانستان کے شہر مزار شریف سمیت دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے باعث ازبکستان اور تاجکستان سے آنے والی بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کابل سمیت کئی صوبوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح مزار شریف اور خلم قصبے کے قریب آیا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ کا دارالحکومت مزار شریف شمالی افغانستان کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک ہے۔
سی این این کے مطابق، یونائیٹڈ اسٹیٹس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے ماڈلز کا اندازہ ہے کہ زلزلے سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کے جھٹکے شمالی افغانستان کی سرحد سے متصل تین ممالک تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ طالبان حکام کو 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے کئی بڑے زلزلوں سے نمٹنا پڑا ہے، جس میں 2023 میں ایران کے ساتھ سرحد پر واقع مغربی ہرات کے علاقے میں ایک زلزلہ بھی شامل ہے۔ اس میں 1,500 سے زیادہ افراد ہلاک اور 63,000 سے زیادہ گھر تباہ ہو گئے تھے۔
ملک میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی خطے میں، جہاں یوریشین اور ہندوستانی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔
برٹش جیولوجیکل سروے کے مطابق، سنہ 1900 سے، شمال مشرقی افغانستان میں 7.0 سے زیادہ شدت کے 12 زلزلے آئے ہیں۔


