Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      امریکی دفاعی نظام کو کاری ضرب: قطر میں 1.1 ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین ‘ارلی وارننگ ریڈار’ تباہ

      دبئی میں ایمیزون (AWS) کا ڈیٹا سینٹر ملبے کا ڈھیر، عالمی ٹیک انڈسٹری میں زلزلہ!

      جنگ،قطری فضائی حدود بند: قطر ایئرویز نے دوحہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں

      ایپل سے بھی مہنگا،سام سنگ نے اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 لانچ کردیا ،جدید فیچرز شامل

      125 سی سی سے بڑی بائیک پر پابندی ، والد کا حلف نامہ لازمی: 16 سالہ کم عمر نوجوانوں کے لائسنس کا اجرا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ڈاکٹرز کی ہینڈ رائٹنگ: علاج یا پہیلی؟خوش خطی کی کلاسز لیں، عدالت کاحکم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: سہیل احمد رانا

    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    پاکستان میں ایک عجیب سا قومی اتفاق پایا جاتا ہے — سیاست دانوں کے وعدے، محکموں کی کارکردگی، اور ڈاکٹرز کی لکھائی، تینوں کبھی صاف اور واضح نہیں ہوتے۔ پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے ڈاکٹر صاحبان دوا تجویز کرتے ہوئے ایسی ہینڈ رائٹنگ استعمال کرتے ہیں جو کسی عام انسان تو کجا، میڈیکل سٹور کے فارمیسی ٹیکنیشنر کو بھی ایک معمہ لگتی ہے۔

    پرچی یا پہیلی؟

    مریض ہاتھ میں ڈاکٹر کی پرچی پکڑتا ہے تو یوں خوش ہوتا ہے جیسے اس کے پاس علاج کی گارنٹی آ گئی ہو۔ مگر پرچی پڑھنے کی کوشش کرے تو لگتا ہے جیسے کوئی یونانی زبان کے بعد مصری ہائروگلفکس سامنے آ گئی ہو۔ چنانچہ مریض آخر میں فارماسسٹ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے، اور فارماسسٹ خود پرچی کو گھور کر سوچتا ہے:
    "یہ دوا ہے یا ریاضی کا فارمولا؟”

    میڈیکل سٹورز کا امتحان

    فارمیسی ورکر کبھی پرچی الٹی پکڑ کر دیکھتا ہے، کبھی روشنی کے نیچے رکھتا ہے، اور کبھی دوسرے ورکر سے مشورہ کرتا ہے۔ آخرکار نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو سمجھ آیا وہی دے دو۔ اور اگر سمجھ کچھ نہ آئے تو مریض کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ سمجھا دیا جاتا ہے:
    ڈاکٹر صاحب نے یہی لکھا ہے۔

    سابق وزیر صحت کا کمال

    یہ کیفیت صرف عام ڈاکٹروں تک محدود نہیں۔ سابق وزیر صحت، جو نہ صرف ایک بڑے پروفیسر بلکہ اپنے شعبے کے مانے ہوئے ماہر سمجھے جاتے ہیں، ان کی ہینڈ رائٹنگ کا عالم یہ ہے کہ بڑے بڑے میڈیکل سٹورز کے تجربہ کار اسٹاف بھی ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں۔ گویا دوا کا نسخہ نہیں بلکہ کسی جج کا خفیہ فیصلہ لکھا گیا ہو، جسے صرف لکھنے والا ہی پڑھ سکتا ہے۔

    نتیجہ: مریض کا نصیب

    یوں اکثر مریض دوا کھاتے ہیں تو بعد میں سوچتے ہیں. یہ دوا سر درد کے لیے تھی یا پیٹ درد کے لیے؟ خیر… دونوں ایک ہی جسم میں ہیں، اثر کہیں نہ کہیں تو کرے گی۔
    حل یا خواب؟
    دنیا کے کئی ممالک میں اس مسئلے کا حل نکالا جا چکا ہے۔ وہاں ڈاکٹرز کو  ڈیجیٹل یا پرنٹڈ نسخے دینے کا پابند کیا گیا ہے، یا الیکٹرانک پریسکرپشن کا نظام رائج ہے۔ مگر پاکستان میں ابھی یہ سب محض خواب ہے۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ ڈاکٹرز کی ہینڈ رائٹنگ کو اگر قومی زبان کا درجہ دے دیا جائے تو عوام کا پہلا سوال یہی ہو گا . اسے پڑھائے گا کون؟

    ڈاکٹرز خوش خطی کی کلاسز لیں،عدالت کا بڑا حکم

    ہمسایہ ملک کی پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں واضح کیا کہ “قابلِ فہم طبی نسخہ بنیادی حق ہے” کیونکہ یہ زندگی اور موت کے درمیان فرق ڈال سکتا ہے۔
    یہ عدالتی حکم ایک ایسے مقدمے میں آیا جس کا اصل تعلق لکھائی سے نہیں تھا۔ اور جسٹس جسگورپریت سنگھ پوری ملزم کی ضمانت کی درخواست سن رہے تھے۔
    خاتون نے الزام لگایا کہ ملزم نے سرکاری ملازمت دلانے کا وعدہ کر کے پیسے لیے، جعلی انٹرویوز کیے اور جنسی استحصال کیا۔
    ملزم نے تردید کی اور کہا کہ تعلق رضا مندی سے تھا اور مقدمہ پیسے کے جھگڑے کی وجہ سے بنایا گیا۔
    جسٹس جسگورپریت سنگھ پوری نے میڈیکو-لیگل رپورٹ دیکھی، جو سرکاری ڈاکٹر نے خاتون کے معائنے کے بعد لکھی تھی، اور کہا کہ یہ ناقابلِ فہم تھی۔
    فیصلے میں لکھا گیا کہ ایک لفظ یا ایک حرف بھی پڑھنے کے قابل نہیں تھا، اور یہ عدالت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ تھا۔
    عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ میڈیکل اسکول کے نصاب میں خوشخطی کے اسباق شامل کیے جائیں اور دو سال کے اندر ڈیجیٹل نسخے رائج کیے جائیں۔
    جب تک ایسا نہیں ہوتا، تمام ڈاکٹرز کو نسخے بڑے اور واضح حروف (کیپیٹل لیٹرز) میں لکھنے ہوں گے۔

    کیا ہماری عدالتیں بھی کوئی ایسا حکم جاری کرکے مسلے ، کچلے اور استحصال زدہ عوام کے حق  میں فیصلہ کرکے دعائیں لیں گی؟

    Related Posts

    ”اور یہی سیدھے رستے پر ہیں“ توفیق بٹ کا کالم

    سعودی عرب کی پاکستان کی ایندھن کی ضرورت پوری کرنے کی یقین دہانی

    سمندر میں خاموشی، تہران میں تباہی: امریکی سینٹ کام کا ایران کے 2000 اہداف اور پوری بحری طاقت کو مفلوج کرنے کا دعویٰ

    مقبول خبریں

    سمندر میں خاموشی، تہران میں تباہی: امریکی سینٹ کام کا ایران کے 2000 اہداف اور پوری بحری طاقت کو مفلوج کرنے کا دعویٰ

    امریکی دفاعی نظام کو کاری ضرب: قطر میں 1.1 ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین ‘ارلی وارننگ ریڈار’ تباہ

    ملتان سلطانز کے فینز کے لیے بڑی خوشخبری: نئے مالک اور نئے جوش کے ساتھ ٹیم کی واپسی!

    ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ: امریکا جلد اس کا جواب دے گا، صدر ٹرمپ

    امریکا کا اپنے شہریوں کو 12 سے زائد خلیجی ممالک فوری چھوڑنے کا حکم

    بلاگ

    ”اور یہی سیدھے رستے پر ہیں“ توفیق بٹ کا کالم

    ”خامنہ ای کی شہادت اور رجیم چینج کی امریکی خواہش“ میاں حبیب کاکالم

    پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں،،، ملک سلمان کا کالم

    تیل کی آخری بوند اور دم توڑتی شہ رگ

    ملکیت کا دفاع یا طاقت کا استعمال؟ پنجاب میں نیا قانونی موڑ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.