ملتان :ملتان میں اپنی والدہ اور دو بہنوں کے مبینہ قتل اور لاشوں کو آگ لگانے کے مقدمے میں گرفتار 22 سالہ امن عباس واقعے کے آٹھ روز بعد ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
ہلاک ہونے والے ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 28 اکتوبر کو ملتان میں اپنی والدہ اور دو بہنوں کو قتل کر دیا تھا، جس کے بعد ملزم نے لاشوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگائی۔
ابتدا میں اسے آتشزدگی کا واقعہ سمجھا گیا تھا، تاہم تفتیش کے دوران پولیس نے دعویٰ کیا کہ خاتون اور ان کی دو بیٹیوں کو پہلے قتل کیا گیا اور بعد میں آگ لگائی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے ملزم امن عباس کو تین نومبر منگل کو حراست میں لے لیا تھا جس سے ابتدائی تحقیقات کے بعد اسی روز اس کی باقاعدہ گرفتاری کا اندراج کر دیا گیا تھا، اور رات کو اعلی حکام کی ہدایات پر ملزم کو ہائی پروفائل ہونے کی بنا پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔سی سی ڈی نے ملزم کو چار نومبر بدھ کو عدالت میں پیش کرکے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا تھا، سی سی ڈی کے آفیسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم سے قتل میں استعمال ہونے والی اشیا برآمد کی جانی ہیں، اس کے علاوہ وقوعہ کے بارے پوچھ گچھ کرنی ہے اور اگر کوئی اور ملزم بھی شریک ہوا تو اس بارے میں بھی چھان بین کرنی ہے۔
سی سی ڈی کے حکام کا دعویٰ ہے کہ زیرحراست ملزم کو ریکوری اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے ضلع لودھراں کی تحصیل کہروڑپکا لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں پہلے سے موجود اس کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور اسے پولیس حراست سے چھڑا کر لے گئے۔
سی سی ڈی کے حکام کا دعویٰ ہے کہ کچھ ہی گھنٹوں بعد ملزمان کا پولیس پارٹی سے پھر آمنا سامنا ہو گیا جس میں ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، اس دوران ’ملزم امن عباس اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا، جبکہ حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔‘
ملتان، والدہ اور دوبہنوں کوقتل کرکے لاشوں کو نذر آتش کرنیوالا سنگدل بیٹامبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

