انٹرنیشنل ڈیسک
ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی (پارلیمنٹ) نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے یعنی "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” (Makkah Joint Defence Agreement) کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد تینوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان عسکری اور تزویراتی تعاون کا نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ترک میڈیا کے مطابق، پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس معاہدے کی منظوری کے لیے ووٹنگ کا عمل طے پایا، جہاں اراکین کی بڑی تعداد نے اس تزویراتی اتحاد کے حق میں ووٹ دیا۔ ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور حکمران جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد خطے میں امن، استحکام اور دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنا نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور سلامتی کا تحفظ کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اس سہ فریقی دفاعی معاہدے پر رواں سال 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ ترین رہنماؤں (وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان) نے دستخط کیے تھے۔اجتماعی دفاعی فریم ورک: اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے مابین دفاعی صنعت، فوجی تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عسکری سازوسامان کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق رکن ممالک میں سے کسی ایک پر بھی بیرونی حملہ تمام ممبر ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب، دنیا کی دوسری بڑی نیٹو فوج کے حامل ترکیہ اور واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کا یہ دفاعی اتحاد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور خطے کی سلامتی کے لیے ایک مضبوط اور دیرپا ڈھانچہ فراہم کرے گا۔

