واشنگٹن ڈی سی :امریکی کانگریس کے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی عبرتناک شکست کے بعد ٹرمپ انتظامیہ میں شدید اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے خلاف محاذ قائم کر لیا ہے اور وہ ایران کے خلاف جاری ملٹری آپریشن کو فوری روک کر امن مذاکرات کی طرف بڑھنے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہے ہیں।
تفصیلات کے مطابق دفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگسیٹھ نے مبینہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مادورو طرز کی ایک تیز رفتار ،مختصر ملٹری مہم کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، طویل ہوتی جنگ اور مسلسل بڑھتے ہوئے نقصانات نے امریکی عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی، جس کا نتیجہ مڈ ٹرمز میں ریپبلکنز کے ہاتھوں سے کانگریس کے کنٹرول کے خاتمے کی صورت میں نکل
انتخابات میں شکست کے فوراً بعد جے ڈی وینس اور مارکو روبیو انتظامیہ کے اس سخت گیر جنگی جنون کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ایران سے فوری طور پر امن مذاکرات کا راستہ نہ اپنایا گیا تو یہ طویل جنگ ٹرمپ انتظامیہ کو مکمل طور پر سیاسی تباہی کی طرف لے جائے گی۔
دوسری جانب، یہ رپورٹس بھی گردش کر رہی ہیں کہ 2028ء کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں خود کو مظبوط رکھنے اور جنگ کے اثرات سے دوری اختیار کرنے کے لیے مارکو روبیو سمیت کابینہ کے 5 اعلیٰ عہدے دار عہدوں سے مستعفی ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر پالیسی اور 2028ء کے انتخاب سے قبل جاری اس کشمکش نے واشنگٹن میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ایک بڑا بحران کھڑا کر دیا ہے۔
مڈ ٹرمز میں شکست کے بعد وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی جنگ: جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے پیٹ ہیگسیٹھ کے خلاف محاذ کھول دیا

