واشنگٹن ڈی سی :امریکی فوج نے ملک بھر کے مختلف فوجی اڈوں پر نصب فریزرز میں پیش آنے والے پراسرار خرابی کے واقعات کو ایک ممکنہ سائبر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
رواں سال اگست کے مہینے میں پیش آنے والے ان پراسرار واقعات کے نتیجے میں کم از کم چھ بڑے فوجی اڈوں کے اسٹورز میں موجود لاکھوں روپے مالیت کی خوراک خراب ہو گئی تھی۔ اس حساس معاملے کی تحقیق سے قریبی طور پر واقف چار امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون اس پورے واقعے کو ایک ممکنہ ہیکنگ اور دشمن عناصر کی گھناؤنی کارروائی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایک نام ظاہر نہ کرنے والے عسکری اہلکار نے بتایا کہ امریکی فوجی تفتیش کار اس سلسلے میں فرانسیسی حکام سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں، جہاں رواں ماہ ہی ملک کی بڑی سپر مارکیٹوں کے کمرشل فریزرز پر بھی بالکل اسی نوعیت کے پراسرار سائبر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق، بعض امریکی فوجی اڈوں پر نصب جدید فریزرز نہ صرف اچانک بند ہوئے بلکہ ان کے ڈیجیٹل کولنگ سسٹمز کا درجہ حرارت رات کے وقت جان بوجھ کر بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں صبح تک وہاں رکھی گئی تمام خوراک پگھل کر ناقابلِ استعمال اور خراب ہو گئی۔ مثال کے طور پر، ایریزونا ریاست میں واقع ‘فورٹ ہواچوکا’ فوجی اڈے نے گزشتہ 26 اگست کو اپنے سوشل میڈیا بیان میں تصدیق کی تھی کہ ان کا فریزر خود بخود ‘ڈی فراسٹ موڈ’ میں چلا گیا تھا، جس سے خوراک گرم ہو کر خراب ہو گئی۔
امریکی فوجی اڈوں پر پراسرار سائبر حملہ، جدید ترین فریزرز نے کام چھوڑدیا، ذخیرہ شدہ خوراک خراب

