سائنس دانوں نے بحیرۂ عرب کی گہرائیوں میں بجلی کے جھٹکے پیدا کرنے والی مچھلی (Electric Ray) کی ایک بالکل نئی قسم دریافت کی ہے۔ ماہرینِ سمندری حیات کے مطابق، جنوب مشرقی بحیرۂ عرب سے ملنے والی اس نئی نوع کا نام ‘ٹیٹرونارسی رامان مورتی’ (Tetronarce ramanamurthyi) رکھا گیا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ شمالی بحر ہند میں اس نسل (Tetronarce) کی یہ پہلی باضابطہ اور تصدیق شدہ دریافت ہے۔ اس تحقیق میں شامل ماہرین نے اس مچھلی کی شناخت بھارت کے جنوب مغربی ساحل سے اکٹھے کیے گئے نمونوں کی مدد سے کی، جبکہ ڈی این اے ٹیسٹنگ اور جینیاتی تجزیے نے بھی اس کے ایک منفرد اور الگ نوع ہونے کی مکمل تصدیق کی ہے۔ اس نئی نوع کی پشت کا رنگ گہرا نیلا مائل سیاہ یا گہرا بھورا ہے، اور اس کے جسم کی چوڑائی اس کی لمبائی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔برقی صلاحیت: اس خاندان کی مچھلیوں میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے شکار کو بے حرکت کرنے (Stun کرنے) اور دشمنوں کے حملے سے بچنے کے لیے برقی جھٹکے پیدا کرتی ہیں، جو کہ بعض اقسام میں 220 وولٹ تک کی طاقت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اس کا نام بھارت کے ‘ڈیپ اوشن مشن’ کے مشن ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم وی رمانا مورتی کی سمندری علوم اور اوشین انجینئرنگ کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں رکھا گیا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں کے راز تاحال پوشیدہ ہیں، اور اس نوع کی دریافت سے سمندری حیاتیاتی تنوع اور آبی جانداروں کے ارتقائی عمل کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل عبور ہوا ہے۔
سرخی: بحیرۂ عرب میں برقی شعاع مچھلی کی نئی نوع دریافت، نام ‘ٹیٹرونارسی رامان مورتی’ رکھ دیا گیا

