اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد نے دارالحکومت کے پولیس افسران اور جوانوں کے لیے نئی اور انقلابی لیو پالیسی (Leave Policy) کی منظوری دے دی ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر تمام شعبوں پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت پولیس اہلکاروں کو چھٹیاں دینے کے اختیارات مختلف انتظامی سطحوں پر منتقل کر دیے گئے ہیں تاکہ نچلی سطح پر دفتری امور میں آسانی پیدا کی جا سکے۔
نئی پالیسی کے اہم نکات:
اختیارات کی تقسیم: ایس ایچ او کو کانسٹیبل سے ہیڈ کانسٹیبل تک 3 دن کی اتفاقی چھٹی (Casual Leave) دینے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ ڈی ایس پی کو 5 دن تک اتفاقی چھٹی منظور کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اسی طرح ایس ایس پی کانسٹیبل سے انسپکٹر تک 3 دن کی چھٹی منظور کر سکیں گے، اور ڈی آئی جی و ڈی جی کے پاس کانسٹیبل سے انسپکٹر تک تمام رخصتوں کے حتمی اختیارات ہوں گے۔
اعلیٰ افسران کی چھٹیاں: ڈی ایس پی اور ایس پی رخصت کی منظوری کا مجاز ادارہ صرف آئی جی اسلام آباد ہوں گے۔
شادی، حج، عمرہ اور امتحانات کے لیے خصوصی رخصتیں
نئی پالیسی میں پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے:
شادی کی چھٹی: مرد پولیس اہلکاروں کو شادی کے موقع پر 10 دن جبکہ خواتین پولیس اہلکاروں کو ایک ماہ (30 دن) کی رخصت دی جائے گی۔
مذہبی فرائض: حج کے لیے 45 دن اور عمرہ و زیارات کے لیے 21 دن کی رخصت منظور کی جائے گی۔
تعلیمی اور مسابقتی امتحانات: سی ایس ایس (CSS) اور پی سی ایس (PCS) کے تحریری امتحانات کے لیے 20 دن جبکہ امتحان کے انٹرویو کے لیے 15 دن کی رخصت کی منظوری دی جائے گی۔
اہلکاروں کا تناسب اور ڈیوٹی کی شرائط
فیصد حد: فیلڈ ورک اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ایک وقت میں صرف 10 فیصد اہلکار اتفاقی چھٹی پر جا سکتے ہیں، جبکہ ’ایکس پاکستان لیو‘ کے لیے صرف 3 فیصد اہلکاروں کی حد مقرر کی گئی ہے۔
ہفتہ وار آرام: تمام پولیس اہلکاروں اور افسران کو ہفتے میں ایک دن کی باقاعدہ چھٹی ملے گی۔
دور دراز اضلاع کے لیے اسپیشل رخصت: دور دراز اضلاع یا فیلڈ میں تعینات اہلکار 45 دن کے بعد 7 دن کی چھٹی یا پھر 90 دن کی مدت پوری ہونے پر 14 دن کی چھٹی حاصل کر سکیں گے۔
پولیس قوانین کے تحت واضح کیا گیا ہے کہ چھٹی کا مطالبہ بطورِ حق نہیں کیا جا سکتا، اور محکمہ جاتی یا ہنگامی ضرورت کے تحت کسی بھی وقت چھٹی منسوخ یا مسترد کرنے کا مجاز اختیار محکمہ کے پاس محفوظ رہے گا۔

