واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوران کے خاندان سے منسلک کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے خلاف مبینہ طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے اور حریف کمپنی کو مالی نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ مقدمہ کرپٹو کمپنی سرکل انٹرنیٹ گروپ کے ایک شیئر ہولڈر جے بینجمن گرین برگ نے دائر کیا ہے.
بینجمن گرین برگ کی درخواست مقدمہ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے منسلک 2 بڑے مالیاتی سودوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری مفادات کو فائدہ پہنچا جبکہ اس کے نتیجے میں سرکل اور اس کے سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا رپورٹ کے مطابق مقدمے میں جس اہم سودے کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس کا تعلق ایک اماراتی سرمایہ کاری فنڈ کی جانب سے کرپٹو ایکسچینج بائنانس میں 2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے ہے.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادائیگی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ڈالر سے منسلک ڈیجیٹل کوائن یو ایس ڈی 1 (USD1) کے ذریعے کی گئی رپورٹ کے مطابق درخواست گزار کا دعوی ہے کہ اس لین دین سے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ڈیجیٹل کوائن کو نمایاں فروغ ملا اور ٹرمپ خاندان کے کاروباری مفادات کو فائدہ پہنچا. مقدمے میں ایک دوسرے سودے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے 4 روز قبل ایک اماراتی سرمایہ کاری ادارے نے ورلڈ لبرٹی فنانشل میں 49 فیصد شیئرز خریدنے کے لیے 500 ملین ڈالرز کا معاہدہ کیا تھا.
رپورٹ کے مطابق مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان سودوں سے امریکی آئین کی اس شق کی خلاف ورزی ہوئی جو کانگریس کی اجازت کے بغیر وفاقی عہدے داروں کو غیر ملکی حکومتوں سے مالی فوائد حاصل کرنے سے روکتی ہے درخواست گزار نے عدالت سے مبینہ غیر قانونی فوائد کی تفصیلات سامنے لانے، متعلقہ رقوم کا حساب پیش کرنے اور قانون کے مطابق مناسب تدارک کا حکم دینے کی استدعا کی ہے.
درخواست میں امریکی مشرقِ وسطی کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک دیگر کمپنیوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے دوسری جانب وائٹ ہاﺅس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے اثاثے ایک ٹرسٹ کے تحت رکھے گئے ہیں، اس لیے مفادات کے ٹکرا کا الزام درست نہیں یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ خاندان کے کرپٹو کے کاروبار اور اماراتی سرمایہ کاروں کے ساتھ اس کے مالی تعلقات پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں.
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ ‘ان کے خاندان اور قریبی دوستوں پر کاروباری فوائدحاصل کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں‘خصوصا ایران جنگ کے دوران تیل‘سٹاک مارکیٹ‘دفاعی ٹھیکو ں سمیت دیگر متعلقہ معاملات میں ان پر ”ان سائیڈٹریڈنگ “کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں. صدرڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ‘ان کے بیٹوں ‘داماد اور قریبی دوستوں کے بارے میں امریکی ذرائع ابلاغ میں کہا گیا کہ انہوں نے انتہائی خفیہ معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سٹاک مارکیٹ میں کروڑوں ڈالر کمائے‘ان کے بیٹے پر شرائط لگانے والی عالمی ویب سائٹس(پولی مارکیٹس)کے ذریعے کروڑوں ڈالر کمانے کا الزام ہے امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدرٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے لیے ان کے بیٹے ٹرمپ جونیئرنے پولی مارکیٹ کے ڈائریکٹرکی حیثیت سے کام شروع کیا تھا.
امریکی تحقیقاتی صحافیوں کا الزام ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئرنے ”ان سائیڈ“انفارمیشن کے ذریعے کروڑوں ڈالرکمائے اسی طرح پانامہ میں رجسٹرڈ اس طرح کی شرطیں لگانے والی ایک کمپنی کی ویب سائٹ پر اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعدنامعلوم امریکی اکاﺅنٹس سے جنگ ‘تیل کی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے لاکھوں ڈالرکی شرطیں لگائی گئیں اور ان نامعلوم اکاﺅنٹس نے بھی ”ان سائیڈانفارمیشن“ استعمال کی ان اکاﺅنٹس کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹرمپ خاندان اور ان کے دوستوں سے منسلک ہیں.
ٹرمپ خاندان کا کرپٹو اور ان سائیڈ ٹریڈنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کمانے کا سنسنی خیز کیس منظر عام پر، مقدمہ درج

