لاہور / ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک): بھارتی فلم ’اڑتا تیر‘ کی تشہیری مہم کے دوران واہگہ بارڈر پر ایک دلچسپ اور غیر متوقع صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں فلم کے مرکزی اداکار آیوشمان کھرانہ اور سارہ علی خان کی تقاریر اور جذباتی جملوں پر پاکستانی سرحد سے بلند ہونے والی معروف گلوکار عاطف اسلم کی آواز کا جادو پوری طرح حاوی رہا۔
رپورٹس کے مطابق منگل کے روز آیوشمان کھرانہ اور سارہ علی خان اپنی آنے والی نئی فلم کی پروموشن کی خاطر بھارتی سیکیورٹی فورسز (BSF) کے اہلکاروں اور اپنے مداحوں سے ملاقات کے لیے واہگہ بارڈر پہنچے۔ اس موقع پر دونوں اداکاروں نے اپنے مداحوں سے ملاقاتیں کیں اور کچھ گانوں پر رقص و پرفارمنس بھی دی۔
پاکستانی سرحد ’بابِ آزادی‘ اور کوک اسٹوڈیو کا سحر
’بالی وڈ باؤنڈری‘ نامی انسٹاگرام پیج اور بھارتی میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس وقت دونوں بھارتی اداکار اسٹیج پر گفتگو کر رہے تھے، ان کے بالکل پس منظر میں پاکستانی سرحد ’بابِ آزادی‘ اور پاکستان کا قومی پرچم لہراتا ہوا نظر آ رہا تھا، جبکہ پاکستان کی حدود میں نصب ایک بڑی اسکرین پر کوک اسٹوڈیو کی ویڈیو چل رہی تھی جس میں نامور پاکستانی گلوکار عاطف اسلم دکھائی دے رہے تھے۔
تاہم، پاکستانی حد سے لاؤڈ اسپیکر پر عاطف اسلم کی آواز میں جاری شہکار کلام ’تاجدارِ حرم‘ کا شور اس قدر اونچا تھا کہ بھارتی اداکار کی آواز بار بار دَب کر رہ گئی۔
صورتحال اس وقت مزید تکنیکی خرابی کا شکار ہوئی جب آیوشمان نے جذباتی انداز میں یہ کہا کہ ”یہاں آ کر پتہ لگتا ہے کہ ہم میں کتنا اتحاد ہے اور ہمارا دل بھر آیا ہے“ اور پھر مائیک سارہ علی خان کی طرف بڑھایا۔ سارہ نے جیسے ہی ’نمستے‘ کہنے کے بعد بولنا شروع کیا، ان کا مائیک اچانک بند ہو گیا۔ آیوشمان نے اپنا مائیک انہیں تھمایا تو سارہ نے بات مختصر کرتے ہوئے کہا، ”میں آپ کو بہت سارا پیار دینا چاہتی ہوں، بس یہی کہنا ہے، بھارت ماتا کی جے۔“
اس کے بعد آیوشمان نے ایک بار پھر پیچھے سرحد اور ’بابِ آزادی‘ کی طرف دیکھا اور مائیک سنبھال کر انتہائی جذباتی انداز میں کہنے لگے کہ ”میں جب بھی یہاں آتا ہوں تو بہت جذباتی ہو جاتا ہوں…“ لیکن ان کے جملے تمام تر کوشش کے باوجود پاکستانی حد سے آنے والے ’تاجدارِ حرم‘ کے اونچے اور مسحور کن سروں میں گم ہو کر رہ گئے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جسے صارفین کی جانب سے فلمی مہم پر پاکستانی موسیقی کے تسلط کے طور پر دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔

