ٹنڈوالہیار (ڈسٹرکٹ رپورٹر تیمور رضا قائم خانی)
ٹنڈوالہیار شہر اور گردونواح میں بڑھتی ہوئی وارداتوں نے امن کا سکون غارت کر دیا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے مبینہ راڈار پر آنے والے اس شہر میں گھروں، دکانوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری روز کا معمول بن چکی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں اجیرن اور تاجر برادری کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔عثمان آباد ٹاؤن (تھانہ اے سیکشن کی حدود): شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جانے والے علی چوہان اور شبیر چوہان پکوان سینٹر کے اہل خانہ کے گھر کو نامعلوم چوروں نے نشانہ بنایا۔ گھر کا صفایا کرتے ہوئے ملزمان 10 لاکھ روپے نقد، 3 تولہ سونا اور دیگر قیمتی سامان لے کر باآسانی فرار ہو گئے۔سرجانہ ٹاؤن (تھانہ بی سیکشن کی حدود): میٹھا پانی گھروں تک سپلائی کر کے روزگار کمانے والے محنت کش کا پلاٹ پر کھڑا موٹر سائیکل رکشہ بھی چوری کر لیا گیا۔ تھانہ اے سیکشن کی حدود سے دو موٹر سائیکلیں چوری ہو چکی ہیں، جبکہ تھانہ بی سیکشن کی حدود میں ایک کمسن بچے کو قتل کر کے لاش پھینکنے کا واقعہ اور تھانہ اے سیکشن کی حد میں اسنوکر کلب سے ایک نوجوان کی تشدد زدہ لاش برآمد ہونے کے ہولناک واقعات نے پورے شہر میں خوف و ہراس پھیل دیا ہے۔شہریوں اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ٹنڈوالہیار پولیس جرائم پیشہ گروہوں کو بے نقاب کرنے اور ان کا قلع قمع کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔متاثرہ شہریوں اور عوام نے ایس ایس پی ٹنڈوالہیار سید سلیم شاہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں، بڑھتی ہوئی وارداتوں اور جرائم کا راستہ روکیں، اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور چوری شدہ مال کی واپسی کو یقینی بنائیں۔

