لزبن (ویب ڈیسک): پرتگال فٹبال فیڈریشن نے قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ کو اچانک چھوڑ کر جانے اور ہیڈ کوچ جارجے جیسس (Jorge Jesus) سے پیدا ہونے والے شدید اختلافات کے معاملے پر اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو پر 30 دن کی پابندی عائد کر دی ہے۔
فیڈریشن کی ڈسپلنری کونسل نے ضابطہ اخلاق اور ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی پر رونالڈو پر 255 یورو کا نمائش طور پر مالی جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تمام واقعہ تین ہفتے قبل ڈنمارک کے خلاف نیشنز لیگ (Nations League) کے میچ سے قبل کوپن ہیگن میں پیش آیا، جب رونالڈو کوچ سے تلخ کلامی کے بعد ٹیم کا کیمپ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
اس سے قبل ناروے کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ہیڈ کوچ نے رونالڈو کو فائنل الیون میں شامل کرنے کے بجائے متبادل (Subs) کھلاڑیوں کی فہرست میں رکھ دیا تھا، جس پر دونوں کے مابین شدید سرد جنگ شروع ہوئی۔
کرسٹیانو رونالڈو نے کوچ جارجے جیسس پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ان کی میدان میں پوزیشن اور کھیل کے وقت کے حوالے سے دو مرتبہ اپنا وعدہ توڑا ہے۔ دوسری جانب ہیڈ کوچ نے ایسے کسی بھی رسمی معاہدے کی سختی سے تردید کی، تاہم پرتگال کی 2-1 سے کامیابی کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں رونالڈو کی ٹیم میں آئندہ واپسی کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا تھا۔
پرتگال فٹبال فیڈریشن کی ڈسپلنری کونسل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رونالڈو نے جان بوجھ کر قومی ٹیم کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ فیڈریشن نے اس معاملے پر باقاعدہ ڈسپلنری کارروائی کا آغاز 9 اکتوبر کو کیا تھا اور واقعے کی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد 30 دن کی پابندی کا یہ بڑا فیصلہ سنایا گیا۔
’’اسٹار ہے تو کیا ہوا’’کوچ سے بدتمیزی پر پرتگال فٹبال فیڈریشن کا کرسٹیانو رونالڈو کیلئے بڑی سزا کااعلان

