اسلام آباد:
جعلی اور غیر قانونی طور پر جاری کردہ سمز کے ذریعے شہریوں اور اہم شخصیات کے بینک اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے نکالنے کا ایک اور بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے، جس کی زد میں قومی اسمبلی کے دو اراکین (ایم این ایز) بھی آ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق فراڈ کا یہ مکروہ دھندہ بائیو میٹرک سسٹم کی مبینہ خامیوں اور بعض اندرونی عناصر کی ملی بھگت سے چلایا جا رہا ہے۔ ملزمان جعلی سمز کے ذریعے متاثرہ افراد کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور پتا چلے بغیر رقوم دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کر لیتے ہیں۔اس لرزہ خیز انکشاف کے بعد سکیورٹی اداروں اور متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹیز کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ متاثرہ اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے متعلقہ اداروں کو باضابطہ شکایت درج کروا دی گئی ہے۔ ماہرینِ قانون اور سکیورٹی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کے سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کیا جائے تاکہ اس قسم کے سائبر کرائمز سے عام شہریوں اور اہم شخصیات کے اثاثوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

