پشاور:پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت اچانک گرنے کے نتیجے میں 32 بچوں اور دو خاتون ٹیچرز جاں بحق ہوگئیں، جبکہ 30 سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ملبے تلے دبے بچوں اور زخمیوں کو نکال کر فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال (LRH) منتقل کیا۔
دیر کالونی پشاور میں نجی سکول کی چھت گر گئی، متعدد بچے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ، اب تک 10 سے زائد زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرے ہوئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
#Peshawar #KPK https://t.co/S2nrzTzUOr— Masooma Mir Adv (@masoomamiradv) October 15, 2026
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام انتظامیہ ٹراما وارڈ میں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم کچھ بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔یڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان نے بتایا کہ ہسپتال میں لائے گئے زیادہ تر بچوں کی عمریں 8 سے 14 سال تک تھیں جبکہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہے تھے۔ایس ایس پی پولیس فرحان خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ک کہ 8 بج کر 48 منٹ پر اس حادثے کی اطلاع کی پہلی کال آئی تھی جس کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں یہاں پہنچ گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ سکول کے پرنسپل کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 110 سے 115 بچے سکول کی چھت پر موجود تھے اور کمزور چھت ان کا بوجھ برداشت نہیں کر سکی۔ پشاور کے پولیس سربراہ سعید احمد نے بتایا کہ عمارت کا سٹرکچر کمزور تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق، پشاور کے وسطی علاقے کی ایک گنجان آبادی میں واقع سکول تک پہنچنے والوں میں مقامی رہائشی سب سے آگے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سکول کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

