اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن ریاست کو یرغمال بنا کر یا دباؤ کے ذریعے کوئی بھی ناجائز مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ذاتی سیاسی ایجنڈے کو قومی مفادات پر ترجیح نہ دی جائے، تحریک انصاف کا واحد مقصد ملک میں مسلسل سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور سیاست میں گالم گلوچ کے کلچر کو عام کرنا رہا ہے، جس کی شروعات 2014ء کے 126 روزہ دھرنے سے ہوئی تھی۔
خیبرپختونخواہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے شدید برہمی میں کہا کہ کے پی کے سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، ایک طرف صوبے میں کسٹمز اور پولیس اہلکار شہید ہو رہے تھے اور لاشیں پڑی تھیں تو دوسری طرف صوبائی حکومت ڈھول بجا کر جلسہ جلوس اور نعرے بازی کر رہی تھی، 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے اس لانگ مارچ میں اب تک چند ہزار لوگ بھی اکٹھے نہیں ہو سکے، جبکہ اس کی آڑ میں کروڑوں روپے کی دہاڑیاں لگائی گئی ہیں۔
سہیل آفریدی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو خودکشی کرنی ہے تو وہ کوئی اور راستہ اختیار کرے، کروڑوں پختونوں کو اس طرح کی خطرناک صورتحال سے کیوں دوچار کیا جا رہا ہے؟ سلمان اکرم راجہ کی جانب سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی میں ان کی مشاورت شامل نہیں جو کہ سراسر غلط ہے، ملک میں دہشتگردی کے خلاف واضح پالیسی موجود ہے اور اس پر بھرپور عمل جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان انتہائی دلیری کے ساتھ دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہی ہیں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ان ہی درندوں کے خلاف جاری رہیں گے جو دہشتگردی میں ملوث ہیں، کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا جس سے آئی ڈی پیز بنیں گے بلکہ یہ صرف لوگوں کے دلوں میں خوف پھیلانے کی کوشش ہے، دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کے علاوہ پوری قوم کا مکمل اتفاقِ رائے ہے، سہیل آفریدی کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے اب تک دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کتنے اجلاس بلائے ہیں۔
مذاکرات کی پیشکش اب بھی موجود، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنا اللہ

