لاہور/اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی نے ملک بھر میں سیاسی ہلچل مچاتے ہوئے آئندہ ماہ کی 4 تاریخ کو حکومت مخالف طوفانی لانگ مارچ شروع کرنے کا باضابطہ پروانہ جاری کر دیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت منعقدہ انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، وفاقی حکومت کی ممکنہ جوابی کارروائیوں اور سخت ترین حکمت عملی پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، کئی ہفتوں پر محیط اس طویل احتجاجی سلسلے کو ایک فیصلہ کن حکومت مخالف تحریک میں تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
طے شدہ شیڈول کے مطابق، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی جنوبی اضلاع سے اس لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔ ابتدائی مراحل میں مختلف سیاسی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات کے بعد یہ مارچ بتدریج آگے بڑھتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب تاریخی پیش قدمی کرے گا۔ پارٹی کی سینئر قیادت نے اس مشن کے لیے وزیراعلیٰ کو گرین سگنل دے دیا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی گہری بحث کی گئی کہ اگر وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف کوئی بھی سخت اقدام، ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور سیاسی اور قانونی جواب دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی نے اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے، جبکہ کسی بھی حکومتی اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کے لیے فوری طور پر ایک سرکردہ قانونی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کا4 اکتوبر کو حکومت مخالف لانگ مارچ ،دھرنے کی فائنل کال!

