سانگھڑ (اشفاق سلہری) سانگھڑ کی تحصیل شہدادپور کے قریب گاؤں مہرن خان تھہیم میں مبینہ طور پر زہریلی لسی پینے سے خواتین، مردوں اور بچوں سمیت 30 سے زائد افراد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔
متاثرین کے مطابق انہوں نے محلے سے لسی خرید کر پی تھی، جس کے کچھ ہی دیر بعد متعدد افراد کو الٹی اور چکر آنے کی شکایت ہوئی جبکہ کئی افراد موقع پر ہی بے ہوش ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد نے متاثرین کو شہدادپور کے SIMS اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز کی جانب سےانہیں ایمرجنسی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ حکام نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لسی میں زہریلی اشیاء کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوائے جا رہے ہیں، تا ہم حتمی وجہ لیبارٹری اور طبی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔
متاثرین اور ان کے اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرا کر لسی فروخت کرنے والے شخص اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

