آستانہ (نیوز ڈیسک)
: قازقستان میں بحیرہ قزوین (Caspian Sea) کی ساحلی سرحد پر بحری مشقوں کے دوران افسوسناک حادثے کے نتیجے میں 14 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد وزارتِ دفاع کے 5 سینئر افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے اعلیٰ حکام میں نیوی کے فرسٹ ڈپٹی کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ان افسران پر مجرمانہ غفلت برتنے اور نیویگیشن و بحری تحفظ کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سمندر میں شدید طوفانی ہواؤں اور موسم کی اچانک خرابی کے دوران فوجی اہلکار ایک گشتی کشتی (Patrol Boat) سے اتر رہے تھے۔ سمندر کی تیز لہروں کے باعث 17 اہلکار پانی میں بہہ گئے۔ فوری ریسکیو آپریشن کے ذریعے 3 اہلکاروں کو زندہ بچا لیا گیا، جبکہ 14 اہلکار ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ قازقستان کے وزیرِ دفاع دائرن کوسانوف (Dauren Kosanov) کی سربراہی میں حادثے کی وجوہات کی نشاندہی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی حکام اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا خراب موسم کی پیشگوئی کے باوجود مشقیں جاری رکھنے اور کشتی کی فنی حالت کے حوالے سے ذمہ دار افسران نے غفلت کا مظاہرہ کیا یا نہیں۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف (Kassym-Jomart Tokayev) نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر میں قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے جاں بحق اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے وئے تمام ممکنہ مالی و نفسیاتی امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

