تہران (نیوز ڈیسک)
امریکی پابندیوں اور خطے میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے باعث ایرانی معیشت شدید دبا کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 10 فیصد سے زائد کی منفی نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔ایرانی شماریاتی مرکز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ایرانی کیلنڈر کی پہلی سہ ماہی (مارچ کے آخر سے جون کے آخر تک) کے دوران ملک کی حقیقی جی ڈی پی میں سالانہ بنیادوں پر 10.1 فیصد کی بڑی کمی آئی ہے۔خام تیل اور قدرتی گیس: تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں اور رکاوٹوں کے باعث اس شعبے میں 26.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔صنعتی اور معدنی شعبہ جات میں 14.7 فیصد کی منفی نمو ریکارڈ کی گئی۔ زرازرعی پیداوار میں 2.3 فیصد کی کمی درج کی گئی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی فروخت میں کمی، بین الاقوامی مالیاتی پابندیوں کی شدت اور مقامی کرنسی (ریال) کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے تہران کے معاشی بحران اور مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

