واشنگٹن:امریکا میں یہود یوں کے خلاف بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے پیش نظر عبادت گاہوں، اسکولوں اور کمیونٹی سینٹرز کے حفاظتی اخراجات ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالر سالانہ کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گئے ہیں۔
نئے اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یہودی برادری نئے سال کے روایتی تہوار "روش ہاشانہ” (Rosh Hashanah) کے موقع پر بڑی اجتماعات کی تیاری کر رہی ہے۔
نارتھ امریکا کی جیوش فیڈریشنز (JFNA) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، یہودی کمیونٹی کے ادارے اب سکیورٹی کی مد میں سالانہ تخمینہ 1.02 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں، جو کہ 2024 کے تخمینے (765 ملین ڈالر) کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ یادرہے امریکا میں یہودیوں کی 4,500 سے زائد عبادت گاہیں، اسکول، سمر کیمپس اور غیر منافع بخش ادارے فی کس اوسطاً 225,000 ڈالر سالانہ سکیورٹی پر لگا رہے ہیں۔ سب سے بڑا خرچ ان پر سکیورٹی اہلکار، بشمول ذاتی گارڈز اور ڈائریکٹرز کی تعیناتی کا ہے جو بجٹ کا سب سے بڑا حصہ لے جاتے ہیں۔
تقریباً 150 ملین ڈالر سکیورٹی ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی کیمروں، مضبوط دروازوں، داخلے کے کنٹرول سسٹمز اور عمارتوں کو محفوظ بنانے ("Hardening”) پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
یہ تمام اخراجات ان 1,600 سے زائد کوشر ریستورانوں، 500 مارکیٹوں اور دیگر نجی ملکیتی یہودی کاروباروں کے الگ ہیں جو اس تخمینے میں شامل نہیں۔

