واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار کے پہلے ہی سال کے دوران ان کے خاندان نے کرپٹو کرنسی اور سمندر پار کاروباری منصوبوں کے ذریعے غیر ملکی ادائیگیوں کی مد میں ہوشربا 2.25 ارب ڈالر کی رقم کما لی ہے۔
اس بڑی مالیت نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ متوقع طور پر آئندہ وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرمز) کے بعد ایوانِ نمائندگان (House) میں اکثریت حاصل کرنے کی تیاری کرنے والے ڈیموکریٹس نے ٹرمپ فیملی کے مالیاتی معاملات کی چھان بین اور رسیدیں تلاش کرنے کے لیے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹس کے لائحہ عمل میں مندرجہ ذیل امور سرِ فہرست ہیں:
صدر ٹرمپ کی جواب طلبی: صدارتی اختیارات اور کاروباری مفادات کے ٹکراؤ پر سخت پوچھ گچھ۔
ٹرمپ انتظامیہ کا احتساب: حکومتی پالیسیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے باہمی تعلق کی جانچ پڑتال۔
ٹرمپ فیملی کے مالیاتی امور: خاندانی کاروبار بالخصوص کرپٹو وینچرز اور غیر ملکی فنڈنگ کی شفافیت کا احتساب۔
رپورٹس کے مطابق اس بار احتساب کے اس عمل میں صدر ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں پر انحصار کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ بلاک چین اور نئے مالیاتی انکشافات نے ان کے غیر ملکی اثاثوں اور منافع کی تفصیلات کو عیاں کر دیا ہے۔
ٹرمپ 2.0 ، پہلے سال میں کرپٹو، کاروبار سے ٹرمپ کے اہل خانہ نے 2.25 ارب ڈالر کمائے

