تہران / صنعا:امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر مشترکہ فوجی کارروائیوں اور بمباری کے سات ماہ گزر جانے کے بعد زمینی حقائق نے دنیا کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان تمام فوجی دباؤ اور حملوں کے باوجود تہران حکومت نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے دنیا کی دو انتہائی اہم ترین بحری گزرگاہوں—آبنائے ہرمز اور باب المندب—پر بالواسطہ یا حلیف قوتوں کے ذریعے اپنا اختیار منوا لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یمن میں سرگرم حوثی فورسز کی جانب سے حالیہ دنوں میں باب المندب کے دہانے پر واقع اسٹریٹجک جزیرے پیرم (مایون) اور اہم بندرگاہی شہر المخا پر قبضے نے سمندری تجارت کے روٹس کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی خلیج فارس کے دہانے پر ایران کے براہِ راست دائرۂ اثر میں ہے، اور اب یمنی حوثیوں کی پیش قدمی کے نتیجے میں بحیرہ احمر اور نہر سویز کی طرف جانے والا راستہ بھی تہران کے حلیفوں کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔
عالمی معاشی اور دفاعی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس دوہری ناکہ بندی یا کنٹرول نے مغرب بالخصوص امریکا اور اس کے اتحادیوں کو شدید دفاعی و معاشی دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اور تل ابیب نے تہران کو عسکری طور پر کمزور کرنے کے لیے پے در پے فضائی حملے کیے، لیکن زمینی سطح پر ایرانی عسکری نیٹ ورک نے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل کے ان کلیدی سمندری راستوں پر اپنی اجارہ داری قائم رکھی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں سپلائی چین کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے جبکہ مغربی دارالحکومتوں میں اسٹریٹجک پالیسی سازوں کے لیے ایک نئی کھلبلی مچ گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سٹریٹجک نقشہ تبدیل: ایران نے آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب پر بھی کنٹرول مضبوط کر لیا

