ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت 10 مختلف کیٹیگریز میں لائسنسنگ کا آغاز، موجودہ آپریٹرز کے لیے 5 ستمبر تک درخواستوں کی مہلت
حکومت کا مقصد کرپٹو کو ختم کرنا نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں لا کر شہریوں کے سرمائے کو محفوظ بنانا ہے: چیئرمین بلال بن ثاقب
اسلام آباد:پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کو استحکام دینے اور کرپٹو و دیگر ورچوئل اثاثہ جات کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے ایک شفاف ریگولیٹری فریم ورک قائم کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ورچوئل اثاثہ جات کے آپریٹرز کی رجسٹریشن کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ پورٹل بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پاکستان نے ریکارڈ چھ ماہ سے بھی کم وقت میں ورچوئل اثاثوں کے لائسنسنگ فریم ورک کی تشکیل مکمل کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملک میں پہلے سے کام کرنے والے تمام ورچوئل ایسٹ آپریٹرز 5 ستمبر تک لائسنس کے لیے اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔
8 years of prohibition end today.
Chairman PVARA @BilalBinSaqib announces the notification of the Licensing Regulations and the opening of the licensing portal, and sets out what licensing requires of providers and what it guarantees consumers.
Get licensed. Get compliant. Come… pic.twitter.com/STVPsoX1so
— Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority (@PakistanVARA) August 21, 2026
بلال بن ثاقب کے مطابق ‘ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026’ کے تحت جاری کردہ ضوابط میں مختلف نوعیت کی 10 کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں کرپٹو ایکسچینج، بروکر ڈیلر، ایڈوائزری سروسز، کرپٹو مائننگ، اور لین دین (قرض دینے و لینے) کی خدمات فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
اس قانونی فریم ورک کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمائے کاری کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو تحفظ ملے گا اور سروس فراہم کرنے والے اداروں کی قانونی و انتظامی ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے گا۔
چیئرمین اتھارٹی کا کہنا تھا کہ لائسنس حاصل کرنے والے اداروں کو ملک کے باقاعدہ بینکنگ سسٹم سے منسلک ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس جامع قانونی ڈھانچے کی موجودگی سے عالمی سطح کی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے بھی پاکستان میں کاروباری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹو کی سرگرمیاں پاکستان میں پہلے سے موجود ہیں، اس لیے حکومت کا مقصد اسے ختم کرنا نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں لا کر ریگولیٹ کرنا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ محض چند ماہ میں ایسا جامع ریگولیٹری نظام تشکیل دینا عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت ہے۔

