اسلام آباد :حکومت نے جمعے کو سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے اہل خانہ اور ان کی پارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دے دیا ہے کہ جیل میں ان کے ساتھ ’ظلم، ذہنی اذیت، بطور سزا قید تنہائی اور طبی سہولیات سے محروم‘ رکھنے جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جیل اور طبی ریکارڈ ان الزامات کی تائید نہیں کرتے۔
وزارت اطلاعات نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو تحریری جواب میں کہا کہ عمران خان کو کسی حکومتی حکم کے تحت نہیں بلکہ ’عدالتی کارروائی کے بعد عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزائیں کاٹنے والے مجرم قیدی‘ کی حیثیت سے جیل میں رکھا گیا ہے۔
حکومت کا یہ ردعمل عمران خان کے اہلِ خانہ اور ان کی جماعت کی جانب سے حکام پر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ اہلِ خانہ اور پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ عمران خان کو عدالت کی جانب سے مقرر کیے گئے نجی ہسپتال کے بجائے طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔
وزارت اطلاعات نے عمران خان کو تنہائی میں رکھنے اور اہلِ خانہ سے بامعنی رابطے سے محروم رکھنے کے الزامات بھی مسترد کر دیے۔
وزارت کے مطابق 2023 میں قید ہونے کے بعد سے عمران خان کے اہلِ خانہ، وکلا، ڈاکٹروں، سیاسی نمائندوں اور دیگر مجاز افراد نے ان سے 900 سے زیادہ ملاقاتیں کی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی حاصل ہے، جبکہ پاکستان اور بیرون ملک موجود رشتہ داروں سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق عمران خان کی اپنے ایک بیٹے سے آخری ریکارڈ شدہ ٹیلی فون پر گفتگو 21 مارچ کو ہوئی تھی، جبکہ ان کی بہنوں نے حال ہی میں 18 اور 19 اگست کو ان سے ملاقات کی تھی۔
حکومت نے کہا کہ عمران خان کو مطالعے کا مواد اور ٹیلی ویژن کی سہولت حاصل ہے، جبکہ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا اور ورزش کا سامان بھی فراہم کیا جاتا ہے اور وہ ’صحت بخش غذا‘ استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں اور رابطے کی سہولت کو سیاسی پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزارت اطلاعات نے طبی غفلت کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے مختلف اداروں کے ماہرین اور میڈیکل بورڈز نے تقریباً 30 مرتبہ طبی معائنے کیے ہیں۔
ان اداروں میں پمز، شفا انٹرنیشنل ہسپتال، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جیل کے ڈاکٹر بھی باقاعدگی سے ان کا معائنہ کرتے ہیں۔
وزارت نے کہا کہ عظمیٰ خان نے جمعے کی پریس کانفرنس میں خود بھی تسلیم کیا تھا کہ ان کے بھائی ’100 فیصد فٹ‘ ہیں، ان کا بلڈ پریشر 120/80 ہے اور آنکھ کی حالت تقریباً مکمل طور پر بہتر ہو چکی ہے۔
حکومت نے عمران خان کی حراست کے حالات سے متعلق دعوؤں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ انہیں سات سیلوں پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے، جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔
وزارت کے مطابق عمران خان کو الگ سے تیار کیا گیا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، مرغی، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل کا پانی شامل ہے۔
یاد رہے عمران خان کی بہن عظمٰی خانم اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو راتوں رات اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ان کے ذاتی معالج پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ نجی ہسپتال میں ان کے انتظار میں رہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہرین کے ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کا معائنہ اور علاج کیا جا سکے، جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی شامل ہوں۔
عظمیٰ خانم نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’میں نے کہا، انہیں یہاں کون لایا؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ انہیں شفا انٹرنیشنل لے جایا جائے۔‘
عظمیٰ خانم کے مطابق پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کیا، ایک انجیکشن لگایا اور ایک اور ٹیسٹ کیا جس سے معلوم ہوا کہ معمولی خون رساؤ (ہیمریج) اب بھی موجود ہے۔
عمران خان اس سے پہلے بھی اپنی دائیں آنکھ میں ’سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن‘ کے علاج کے لیے پمز میں زیر علاج رہ چکے ہیں، جو بصارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پولیس انہیں ایک علیحدہ گاڑی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے گئی، جہاں وہ تقریباً تین گھنٹے تک عمران خان کے پہنچنے کے انتظار میں رہے۔
فیصل سلطان نے صحافیوں کو بتایا، جب صبح کے تقریباً 4:15 سے 4:30 بج رہے تھے تو انہوں نے مجھے بتایا ’ڈاکٹر، لگتا ہے کہ وہ نہیں آئیں گے، اور شاید واپس جا چکے ہیں۔ آپ بھی واپس چلے جائیں۔‘
عمران خان پر تشدد، ذہنی اذیت اور طبی غفلت کے الزامات بے بنیاد ہیں: حکومت

