سکھر ڈویزنل بیوروچیف نصیر احمد لاشاری
سکھر کے علاقے نیوپنڈ، محلہ پٹھان کالونی سے تعلق رکھنے والے پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے نے جان کو لاحق خطرات کے باعث سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے اپنی جان و مال کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔ جوڑے کا مؤقف ہے کہ انہوں نے باہمی رضامندی سے قانونی طور پر عدالت میں شادی کی، تاہم اس کے بعد سے اہل خانہ اور بعض دیگر افراد کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے باعث انہیں اپنی زندگی خطرے میں محسوس ہو رہی ہے۔پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سکندر علی میرانی ولد محمد یاسین میرانی اور ان کی اہلیہ جویریہ عباسی دختر محمد مقصود عباسی نے بتایا کہ انہوں نے 20 جولائی کو حیدرآباد کی سیشن کورٹ میں باہمی رضامندی سے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے پسند کی شادی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد وہ نیوپنڈ سکھر میں پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، مگر جویریہ کے والد، بھائی اور دیگر رشتہ دار اس شادی کو قبول نہیں کر رہے اور انہیں مسلسل ہراساں کرنے کے ساتھ سنگین نتائج اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔جویریہ عباسی نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد محمد مقصود عباسی اور بھائی محمد ثاقب عباسی بعض دیگر افراد کے کہنے پر ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف ہو گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عبدالغفار میرانی اور کشمیرہ میرانی کی جانب سے بھی انہیں جان لیوا دھمکیاں دی جا رہی ہیں، حالانکہ ان کا اس شادی یا نکاح کے عمل سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلیں، کسی نے انہیں اغوا نہیں کیا اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا دباؤ تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت میں سکندر علی میرانی سے نکاح کیا، لیکن اس کے باوجود انہیں اور ان کے شوہر کو مسلسل خوف و ہراس کا سامنا ہے۔اس موقع پر جویریہ عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے قانونی طور پر شادی کی ہے، لیکن ان کے اہل خانہ انہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، جس کے باعث وہ شدید خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔سکندر علی میرانی نے کہا کہ وہ اور جویریہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے قانون کے مطابق عدالت میں شادی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جویریہ کے والد اور بھائی اس فیصلے سے ناخوش ہیں جبکہ بعض دیگر افراد کی جانب سے بھی انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے انہیں خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔جوڑے نے میڈیا کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے اپیل کی کہ انہیں فوری قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی ازدواجی زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کا مؤقف سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ اگر مستقبل میں ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
پریمی جوڑے نے کہا کہ اگر انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

