پنجاب بھر میں غیر قانونی قبضے ختم کرنے کے لیے ٹربیونلز اب تقریباً مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں۔ صوبے کے 36 اضلاع میں 36 ٹربیونل قائم کر دیے گئے ہیں اور ہر ضلع میں ایک علیحدہ کریمنل ٹربیونل ہے جہاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو مقرر کیا گیا ہے۔کیس فائل کرنے کا طریقہ کار بالکل واضح ہے۔ سب سے پہلے انڈیکس فارم لگائیں جس میں تمام دستاویزات کی تفصیل اور صفحہ نمبرنگ ہو۔ پھر اپنی شکایت/کمپلینٹ لگائیں جس میں پراپرٹی کی مکمل تفصیل اور ثبوت (رجسٹری، فردِ انتقال یا ٹرانسفر) شامل ہوں۔ متعلقہ پولیس اسٹیشن کی تفصیل ضرور لکھیں۔ ملزمان کے مکمل نام، پتہ اور شناختی تفصیلات دیں تاکہ نوٹسز درست طریقے سے جاری ہو سکیں۔ دو گواہوں کے نام اور تفصیلات بھی شامل کریں۔اس کے علاوہ دو حلف نامے لازمی ہیں: ایک یہ کہ اس پراپرٹی کے بارے میں کسی دوسری عدالت میں کیس نہیں چل رہا، اور اگر چل رہا ہے تو اس کی مکمل تفصیل اور تصدیق شدہ کاپیاں۔ تمام دستاویزات دو سیٹوں میں تیار کریں۔فائل جمع کرانے کے بعد متعلقہ رجسٹرار تین دن کے اندر اسے ضلعی سکروٹنی کمیٹی کو بھیج دے گا۔ اس کمیٹی میں ڈی سی، ڈی پی او، اے سی، متعلقہ ایس ایچ او، ریونیو آفیسر اور سرکاری ایجنسی کا نمائندہ شامل ہوتے ہیں۔ کمیٹی 30 دن کے اندر زمین کا سروے کرے گی، ریکارڈ چیک کرے گی، علاقے والوں سے تحقیقات کرے گی اور رپورٹ واپس بھیجے گی۔ اس کے بعد ٹربیونل کو 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر بظاہر آپ کا حق ثابت ہو رہا ہو تو عبوری طور پر قبضہ بھی فوری طور پر دلوایا جا سکتا ہے۔

