صوابی (حق نواز خان)
ٹوپی/صوابی: صوابی ایکشن کمیٹی کے ترجمان سلیم خان ایڈووکیٹ نے اعلان کیا ہے کہ ضلع صوابی میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، تربیلا ڈیم سے ضلع کو براہِ راست بجلی کی فراہمی، بجلی کی پیداوار کے تناسب سے نرخ مقرر کرنے اور صوابی کی رائلٹی کو ضلع کی ترقی پر خرچ کرنے کے مطالبات کے حق میں 30 جولائی کو ڈپٹی کمشنر صوابی کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔پریس کلب میں عوامی آگاہی مہم کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ضلع صوابی پورے پاکستان کو تقریباً 70 فیصد بجلی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم مقامی عوام خود طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول تحصیل ٹوپی میں پی ایچ ایل سی منصوبہ پیڈو کے ذریعے 18 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، جبکہ یہ بجلی کم نرخوں پر چند صنعتی اداروں کو فراہم کی جا رہی ہے، حالانکہ اس کا فائدہ مقامی آبادی کو بھی ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں 18،18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے صوابی کے عوام اپنے بنیادی حق کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں عوامی بیداری مہم جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری 30 جولائی کے احتجاج میں شرکت کریں۔سلیم خان ایڈووکیٹ نے مزید الزام عائد کیا کہ گدون انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتی اداروں نے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی () کے تحت مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتی ادارے اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری کریں اور علاقے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع صوابی کو تربیلا ڈیم سے براہِ راست بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، بجلی کے نرخ مقامی پیداوار کے تناسب سے مقرر کیے جائیں اور صوابی کے حصے کی رائلٹی کو ضلع کی ترقی اور عوامی فلاح پر خرچ کیا جائے۔

