سکھر (ڈویزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ)
سکھر جے ایس ٹی کے تحریری امتحان میں 50 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں نے اپنے مطالبات کے حق میں سکھر پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرے میں بڑی تعداد میں امیدواروں نے شرکت کی اور حکومتِ سندھ و محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ 5 اگست کو متوقع فیصلے میں 50 پلس نمبر حاصل کرنے والے تمام امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر کامیاب قرار دیتے ہوئے بھرتیوں کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر امیدواروں کے مطالبات کے حق میں مختلف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے "میرٹ بحال کرو”، "50 پلس امیدواروں کو انصاف دو” اور "تعلیم یافتہ نوجوانوں کا حق دو” جیسے نعرے بھی لگائے۔اس موقع پر امیدواروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سخت محنت، لگن اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر امتحان میں 50 یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے ہیں، اس لیے انہیں ان کا جائز حق دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میرٹ کو نظرانداز کیا گیا تو یہ نہ صرف اہل امیدواروں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔مظاہرین نے حکومتِ سندھ، وزیرِ اعلیٰ سندھ، وزیرِ تعلیم، سیکریٹری تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ 5 اگست کو ہونے والے فیصلے میں امیدواروں کے مستقبل، ان کی محنت اور میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے 50 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے تمام امیدواروں کے حق میں مثبت اور منصفانہ فیصلہ کیا جائے تاکہ ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی امیدیں پوری ہو سکیں اور انہیں روزگار کے مساوی مواقع میسر آئیں۔احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جدوجہد مکمل طور پر آئینی، قانونی اور پُرامن دائرہ کار میں جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے مستقبل میں بھی پُرامن احتجاج اور جمہوری جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔احتجاج اختتام پذیر ہونے پر امیدواروں نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ میرٹ، شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے 50 پلس نمبر حاصل کرنے والے تمام اہل امیدواروں کو کامیاب قرار دے کر فوری طور پر تقرریوں کا عمل مکمل کیا جائے، تاکہ صوبے کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

