Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پرانے اسمارٹ فونز کے صارفین ہوشیار! جلد واٹس ایپ کا استعمال بند ہونے کا امکان

      مریخ ؛ نئی تحقیق میں سائنس دانوں کا اہم انکشاف

      امریکا نے’سوپر انٹیلی جنس فورس’ تشکیل دیدی، NSA کے ڈائریکٹر جنرل جے کلیٹن سربراہ مقرر

      مستقبل کی جنگ کا نقشہ بدل گیا: امریکی فوج کا ہر سپاہی ڈیجیٹل ،جنگلوں میں جنگی مشقیں

      ذہین ترین ممالک، کون سا ملک ٹاپ پررہا?

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    دو افراد نے زی ا د ت ی کی، برہنہ کیا گیا،1لاکھ ڈالر دینے پر چھوڑا، مغوی خواتین کا دفعہ 164 کے تحت بیان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور : ڈیفنس میں دو غیرملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متاثرہ خواتین میں سے ایک، آسٹرڈ (Astrid)، نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا، جس میں اس نے اغوا، غیرقانونی حراست، تاوان اور جنسی زیادتی سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
    بیان کے مطابق آسٹرڈ نے بتایا کہ اس کی پہلی ملاقات محمد احمد رضا ڈار سے سنگاپور میں منعقد ہونے والی ایک کرپٹو کرنسی تقریب کے دوران ہوئی تھی، جہاں بعد ازاں محمد احمد رضا ڈار نے اس کی ساتھی اسٹیفنی کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کیے۔آسٹرڈ نے الزام لگایا کہ محمد احمد رضا ڈار بار بار اپنا تعارف پاکستانی وزیر علی ڈار کے بیٹے کے طور پر کراتا رہا، جبکہ اس کے واٹس ایپ پروفائل پر ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ تصویر بھی لگی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اس کا اعتماد مزید مضبوط ہوا اور وہ اس کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے پر آمادہ ہوگئی۔متاثرہ خاتون کے مطابق محمد احمد رضا ڈار نے انہیں ممکنہ سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں کی غرض سے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ اس دعوت کو قبول کرنے کے بعد وہ اور اسٹیفنی پاکستان آئیں، جہاں مبینہ طور پر محمد احمد رضا ڈار نے ان کے ویزوں کا انتظام کیا، اسلام آباد میں قیام کے دوران میزبانی کی اور بعد ازاں انہیں لاہور لے آیا۔بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ لاہور پہنچنے پر دونوں خواتین کو ایک مکان میں لے جایا گیا، جہاں انہیں دو راتوں تک ہاتھ یرغمال رکھا گیا۔
    آسٹرڈ کے مطابق اس دوران محمد احمد رضا ڈار مسلسل ان سے ایک کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھتا رہا اور دھمکیاں دیتا رہا کہ اگر رقم واپس نہ ملی تو انہیں قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ گھر میں موجود متعدد افراد انہیں مسلسل ہراساں کرتے رہے، جبکہ دو نامعلوم ملزمان نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اپنے بیان میں آسٹرڈ نے مبینہ زیادتی کا الزام انہی دو دیگر ملزمان پر عائد کیا ہے اور محمد احمد رضا ڈار پر جنسی زیادتی کا الزام نہیں لگایا، تاہم اس پر اغوا، غیرقانونی حراست اور تاوان طلب کرنے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
    بیان کے مطابق ملزمان نے انہیں برہنہ کر کے شیشے کے ٹکڑوں اور دیگر نوکیلی اشیاء سے جسم کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیں تاکہ وہ رقم کی ادائیگی پر مجبور ہو جائیں۔آسٹرڈ نے بتایا کہ اس نے دورانِ قید متعدد مرتبہ اپنے دوستوں اور کاروباری ساتھیوں سے مالی مدد کے لیے رابطہ کیا، مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ بعد ازاں اسٹیفنی کی والدہ نے اطلاع دی کہ انہوں نے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا انتظام کر لیا ہے۔
    متاثرہ خاتون کے مطابق قید کے آخری روز محمد احمد رضا ڈار نے دونوں خواتین سے کہا کہ وہ آزاد ہیں، ان کے پاسپورٹ واپس کیے اور انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر کہا کہ وہ انہیں ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا ہے۔تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ راستے میں محمد احمد رضا ڈار مسلسل نامعلوم افراد سے فون پر بات کرتا رہا۔ آسٹرڈ کا کہنا ہے کہ اس نے فون پر دوسری جانب سے کسی شخص کو یہ کہتے سنا کہ "باس کی ہدایات کچھ اور تھیں”، جس کے بعد اسے خدشہ ہوا کہ انہیں حقیقت میں رہا نہیں کیا جا رہا۔
    بیان کے مطابق کچھ دیر بعد محمد احمد رضا ڈار نے گاڑی دوسری گاڑی کے ساتھ ٹکرا دی اور گاڑی رک گئی ۔ اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹرڈ اور اسٹیفنی گاڑی سے نکل کر سڑک کی جانب بھاگیں اور مدد کے لیے چیخ و پکار شروع کر دی۔خاتون کے مطابق راہگیروں نے ان کی آواز سن کر مدد کی اور ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کو اطلاع دی۔ بعد ازاں مقامی پولیس اور خواتین پولیس اہلکار موقع پر پہنچیں، جس کے بعد دونوں خواتین نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

    Related Posts

    ہانگ کانگ سکسز کا شیڈول جاری، دفاعی چیمپئن پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل

    متنازع بیان پر شدید تنقید کے بعد سنجے دت کا وضاحتی بیان سامنے آ گیا

    تماشائی کو گیند مارنے پر روسی ٹینس اسٹار سیمی فائنل سے باہر

    مقبول خبریں

    ہانگ کانگ سکسز کا شیڈول جاری، دفاعی چیمپئن پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل

    متنازع بیان پر شدید تنقید کے بعد سنجے دت کا وضاحتی بیان سامنے آ گیا

    تماشائی کو گیند مارنے پر روسی ٹینس اسٹار سیمی فائنل سے باہر

    سری لنکا کے خلاف ٹی20 سیریز کے لیے صاحبزادہ فرحان کپتان مقرر، ون ڈے ٹرائی سیریز میں شاہین آفریدی کی قیادت برقرار

    سابق ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور دوم 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    بلاگ

    یومِ اساتذہ، معمارانِ قوم کو سیلوٹ

    استاد صرف پڑھاتا نہیں، نسلیں بناتا ہے

    اور:- اساتذہ کو انکی مراعات دو۔۔۔یہی انکا بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ہے۔!!!

    گورنر راج، ایمرجنسی اور آرٹیکل 234: خیبر پختونخوا کے بارے میں پھیلنے والی آئینی غلط فہمیاں

    "وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کو پولیس کی کالی بھیڑوں کا دھچکا”

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.