اوٹاوا: کینیڈا اس وقت موسم کی دوہری تباہ کاریوں کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ایک طرف شدید گرمی کی لہر نے لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، تو دوسری جانب موسلادھار بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے کئی علاقوں میں معمولات زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں غیر معمولی موسمی حالات نے عوامی تحفظ اور بنیادی خدمات کے لیے نئے چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے وسیع علاقوں میں ’ہیٹ ڈوم‘ نامی موسمی کیفیت برقرار ہے، جس کے باعث درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کی سطح معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی کا کینیڈا کا محکمہ صوبہ اونٹاریو، کیوبیک، پریری خطے اور شمال مغربی علاقوں کے متعدد حصوں کے لیے شدید گرمی کی وارننگ جاری کر چکا ہے۔ ان علاقوں میں لاکھوں افراد گرمی کے الرٹ کے دائرے میں ہیں۔
صوبہ اونٹاریو ان علاقوں میں شامل ہے جہاں گرمی کی شدت سب سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ جنوب مغربی اونٹاریو میں کئی روز سے شدید گرم اور مرطوب موسم برقرار ہے، جبکہ رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کے باعث لوگوں کو خاطر خواہ راحت نہیں مل رہی۔ مشرقی اونٹاریو کے رہائشیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دن کے گرم ترین اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
موسمیاتی حکام نے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ پانی پینے، دھوپ میں سخت جسمانی مشقت سے گریز کرنے اور بزرگوں، کم عمر بچوں اور گرمی سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کی خصوصی دیکھ بھال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل بلند درجہ حرارت صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
دوسری جانب شدید گرمی کے ساتھ غیر مستحکم موسمی حالات نے طوفانی بارشوں اور آندھی کے امکانات بھی بڑھا دیے ہیں۔ دارالحکومت اوٹاوا میں یومِ کینیڈا کی تقریبات خراب موسم کے باعث متاثر ہوئیں۔ شدید طوفان اور مقامی سطح پر سیلابی صورت حال کے سبب دوپہر کے متعدد سرکاری پروگرام منسوخ کر دیے گئے، جن میں فضائی کرتب دکھانے والی مشہور "اسنو برڈز” ٹیم کی پرواز بھی شامل تھی، جس کا شہریوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔

