پشاور انورزیب خان
کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت ضلع نوشہرہ میں دریائے سندھ کے کناروں پر جاری غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ کی روک تھام، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی، اور قانونی لیز ہولڈر کو مکمل تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نوشہرہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرلز نوشہرہ، پولیس حکام، متعلقہ اداروں کے افسران اور قانونی لیز ہولڈر کمپنی کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں، قائم چیک پوسٹوں، مشترکہ آپریشنز، مقدمات، گرفتار ملزمان، ضبط شدہ مشینری اور آئندہ حکمتِ عملی سے اجلاس کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق حکومتی ہدایات پر علاقے سے 70 فیصد غیر قانونی مائننگ کا خاتمہ کیا جا چکا ہے جبکہ بقیہ 30 فیصد غیر قانونی مائننگ کا بھی جلد خاتمہ کیا جائے گا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ کے خلاف ضلعی انتظامیہ، پولیس، منرلز اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کارروائیوں پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر قانونی مائننگ میں ملوث باقی ماندہ عناصر کے خلاف بھی بلاامتیاز اور سخت ترین کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ اس غیر قانونی کاروبار کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔کمشنر نے زور دیا کہ قانونی طور پر لیز ہولڈر کو منرل اور مائنز قوانین کے تحت ہر ممکن تحفظ اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے، جبکہ حکومت کو بھی معدنی وسائل سے بلا تعطل ریونیو حاصل ہوتا رہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، منرلز اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ، کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کو باہمی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے، موجودہ چیک پوسٹوں پر نگرانی سخت کرنے اور ضرورت کے مطابق نئی چیک پوسٹیں قائم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کو علاقے کے عمائدین پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ منعقد کرنے اور غیر قانونی مائننگ کی روک تھام کے لیے اعتماد میں لینے کی ہدایات جاری کیے کمشنر پشاور ڈویژن نے غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ میں استعمال ہونے والی مشینری، گاڑیوں اور دیگر آلات فوری طور پر ضبط کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ قانون پر عملدرآمد میں کسی بھی فرد یا گروہ کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔

