سری نگر: بالی ووڈ کے معروف اداکار اجے دیوگن کی آنے والی فلم ’چوہان‘ کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹریلر میں دکھائے گئے مناظر، جن میں پیلیٹ گن، نوجوانوں کے احتجاج اور پرتشدد واقعات کی عکاسی کی گئی ہے، کو کشمیری عوام، سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے وادی کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اس فلم کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خطرناک پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ یہ فلم گوبلز کے پروپیگنڈے کی یاد تازہ کرتی ہے اور اس کا مقصد کشمیر میں دوبارہ نفرت اور تشدد کو ہوا دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن نوجوانوں نے پیلیٹ گن سے اپنی بینائی اور جانیں گنوائی ہیں، ان کی تکلیف کو تفریح کا ذریعہ بنانا انتہائی بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلم کا ٹریلر فوری طور پر واپس لیا جائے۔
معروف سماجی کارکن وجاہت فاروق بھٹ نے بالی ووڈ کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلم سازوں کو مقبوضہ کشمیر کو ہمیشہ ایک جنگی میدان کے طور پر دکھانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ” مقبوضہ کشمیر میں گزرنے والی زندگی میں کوئی رومانوی یا بہادری کا عنصر نہیں تھا، بلکہ یہ برسوں پر محیط کرفیو، خوف اور بے یقینی کا دور تھا جس نے ایک پوری نسل کو برباد کر دیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ بالی ووڈ کی جانب سے ایسی فلمیں کشمیریوں کے بارے میں دنیا بھر میں منفی تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس وقت کشمیری نوجوانوں کی جانب سے فلم کے خلاف ایک بڑی مہم شروع ہو چکی ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ بالی ووڈ کو کشمیر کی اصل ثقافت، خوبصورتی اور وہاں کے عام شہریوں کی مشکلات کو دکھانے کے بجائے صرف سیاسی بیانیے اور تشدد پر مبنی کہانیاں بیچنے میں دلچسپی ہے۔ اس تنازع کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ فلم کی ٹیم اور اداکار اجے دیوگن کی جانب سے اس شدید عوامی ردِعمل پر کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے۔
اجے دیوگن کی متنازع فلم ’چوہان‘ کے ٹریلر نے مقبوضہ کشمیر میں آگ لگا دی: نوجوانوں کا فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ

