ملتان (مہر آصف، بیورو چیف)
نشتَر ہسپتال ملتان میں ادویات کی چوری کے بعد ایک اور بڑا مالی و انتظامی سکینڈل سامنے آ گیا۔ ہسپتال کے مختلف شعبوں سے 1400 سے زائد برقی پنکھوں کی گمشدگی کا انکشاف ہوا ہے، جس پر انتظامیہ اور متعلقہ اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ہسپتال کے اسٹورز اور مختلف وارڈز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران پنکھوں کی تعداد میں نمایاں کمی سامنے آئی۔ ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سامان گزشتہ کئی برسوں کے دوران مرحلہ وار غائب ہوا۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نشتَر انتظامیہ نے تھانہ کینٹ ملتان سے رجوع کر لیا ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی درخواست اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ تحقیقات کے بعد مزید قانونی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔شہری اور سماجی حلقوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے وسائل کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام ناگزیر ہے۔دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تمام حقائق سامنے لانے کے لیے مکمل انکوائری کی جا رہی ہے اور کسی بھی غفلت یا بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

