نیویارک/واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے مستقبل پر چھائے غیر یقینی کے بادلوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں منگل کو بھی اپنی بلند سطح پر برقرار رہیں۔ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں جاری عسکری کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں معمولی اضافے کے بعد قیمت 95.04 ڈالر فی بیرل پر دیکھی گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سیشن کے دوران دونوں بینچ مارکس میں 5 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
عالمی منڈی میں یہ تیزی امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے تعطل کی اطلاعات کے بعد پیدا ہوئی۔ ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کی خبروں نے عالمی سطح پر سپلائی چین کے متاثر ہونے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مذاکرات کے رکنے کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی اور صورتحال میں بہتری کی امید اب بھی موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا اصل خوف "آبنائے ہرمز” کی بندش سے جڑا ہے۔ یہ عالمی توانائی کی سپلائی کا ایک اہم ترین راستہ ہے، اور ایران کی جانب سے اسے بند کرنے کی دھمکیوں نے عالمی منڈی میں "رسک پریمیم” کو بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ امریکا کی جانب سے ریکارڈ 5.6 ملین بیرل یومیہ خام تیل کی برآمدات نے مارکیٹ کو کسی حد تک سہارا دیا ہے، لیکن خطے میں کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کی صورت میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، تیل کی قیمتوں کا اگلا رخ مکمل طور پر سفارتی محاذ پر ہونے والی پیش رفت پر منحصر ہے۔ سرمایہ کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکال پاتے ہیں یا خطے میں جاری عسکری کشیدگی توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔
ایران، امریکہ کشیدگی: مذاکرات میں غیر یقینی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

