واشنگٹن ڈی سی :امریکا میں وائٹ ہاؤس سکیورٹی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پریس ڈنر کی تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد صدر اور خاتون اول کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سیکریٹ سروسز حکام کا کہنا ہے کہ ’صدر اور خاتونِ اول سمیت تمام زیرِ حفاظت افراد محفوظ ہیں۔‘
جاری بیان میں کہا گیا ہے ’ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ یہ واقعہ تقریب کے مرکزی سکیورٹی چیکنگ ایریا کے قریب پیش آیا۔‘
واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’میں نے مشورہ دیا کہ کے تقریب جاری رہنی چاہیے لیکن اس کا فیصلہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کریں گے۔‘
The White House Correspondents’ Dinner shooter was armed with a shotgun, handgun, and multiple knives, according to DC police chief Jeffrey Carroll.
The shooter was identified as 31-year-old teacher Cole Allen from Torrance, California.
The suspect emerged from a "makeshift… pic.twitter.com/aUK5m6AwCr
— Collin Rugg (@CollinRugg) April 26, 2026
خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے واقعے کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ’ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سکیورٹی چوکی کی طرف بڑھا، اور خفیہ حفاظتی ادارے کے نہایت بہادر اہلکاروں نے اسے قابو کر لیا۔انہوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ وہ اکیلا ہی تھا، اور میرا بھی یہی خیال ہے۔‘
اس سے قبل ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں حملہ آور کو سکیورٹی سے آگے بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ محافظوں نے ہتھیار نکال کر فائرنگ کی۔ ملزم کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ایک اہلکار کو قریب سے گولی لگی، تاہم وہ شدید زخمی نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقام ’زیادہ محفوظ نہیں تھا”‘، جس پر صدر کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں لگا کہ شاید کوئی ٹرے گر گئی ہے، لیکن بعد میں احساس ہوا کہ یہ فائرنگ کی آواز ہے، اور انہوں نے مشتبہ شخص کو ’ممکنہ قاتل ‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود وہ اس میڈیا تقریب کو ایک ماہ کے اندر دوبارہ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے فائرنگ کی۔
حکام کے مطابق واقعہ اس ہال کے باہر پیش آیا جہاں ٹرمپ اور دیگر مہمان موجود تھے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل میں کیا ہوا۔
خفیہ حفاظتی ادارے اور دیگر سکیورٹی حکام نے واشنگٹن کے ایک بڑے ہوٹل کے عشائیہ ہال کو گھیرے میں لے لیا، جہاں سینکڑوں مہمان کھانے کے دوران میزوں کے نیچے چھپ گئے۔
ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ فائرنگ کرنے والا موجود تھا، تاہم مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ تمام اہم شخصیات کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ منتظمین تقریب کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کچھ حاضرین کے مطابق انہوں نے پانچ سے آٹھ گولیوں کی آوازیں سنیں۔ ہال جہاں سینکڑوں معروف صحافی، شخصیات اور قومی رہنما ٹرمپ کی تقریر کے منتظر تھے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔
قومی محافظ دستے کے اہلکاروں نے عمارت کے اندر پوزیشن سنبھال لی، جبکہ لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی گئی مگر فوری طور پر واپس آنے سے روک دیا گیا۔ عمارت کے باہر بھی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس واقعے پر اپنے ردعمل میں لکھا ہے کہ ’واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے پر گہرا صدمہ ہوا ہے۔ یہ جان کر اطمینان ہوا کہ صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر تمام شرکا محفوظ ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میری ہمدردیاں اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور میں ان کی مسلسل حفاظت اور خیریت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔‘

