واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایک ایسی پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد امریکی مطالبات کو پورا کرنا ہےدیکھنا ہوگا کہ وہ پیش کیا کرتے ہیں ۔
صدر ٹرمپ نے ایک فون انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ (ایرانی) ایک پیشکش کر رہے ہیں اور ہمیں دیکھنا ہوگا (کہ وہ کیا ہے)۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ابھی تک نہیں جانتے کہ وہ پیشکش کیا ہوگی، تاہم وہ اس بات پر بضد رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کا اپنے افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی آزادی دینا لازمی شامل ہو۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ایران کی قیادت کون کررہا ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں وہاں کی قیادت تقسیم کا شکار ہے۔
جمعہ کو جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں یہ بتانا نہیں چاہتا لیکن ہم ان لوگوں سے معاملہ کر رہے ہیں جو اس وقت بااختیار ہیں۔انہوں نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے کیا ضروری ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اس سوال کا جواب بعد میں دینا ہوگا۔ مجھے دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا پیش کر رہے ہیں۔

