کلورکوٹ (رپورٹ: ملک سمیع اللہ ):

مجرے کی محفل رکوانے کا غصہ پولیس کی وردی پر نوٹ نچھاور کر کے نکالا گیا، جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کلورکوٹ کے ’چنگڑ‘ قبیلے سے تعلق رکھنے والے چند افراد، جن کے پاس حال ہی میں اچانک دولت کی ریل پیل ہوئی ہے، اپنی نمود و نمائش اور بڑی گاڑیوں کے ذریعے عام شہریوں پر رعب جمانے کے لیے مشہور ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز ان کی جانب سے ایک غیراخلاقی ’مجرے‘ کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا، جس کے خلاف مقامی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ زاہد شریف رانا نے بھرپور آواز اٹھائی۔ عوامی دباؤ اور پولیس کی مداخلت کے باعث اس پروگرام کو کینسل کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق اس پابندی کا بدلہ لینے کے لیے آج صبح جب ان نو دولتیوں کی بارات تھانہ کلورکوٹ کے سامنے سے گزری، تو انہوں نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دیں۔حراساں کرنے کا انوکھا اندازاپناتے ہوئے سڑک پر ڈیوٹی انجام دینے والی ایک لیڈی کانسٹیبل کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک نہیں بلکہ کئی گاڑیوں سے بدمست باراتیوں نے لیڈی کانسٹیبل پر نوٹ نچھاور کیے۔
خاتون اہلکار کی بے بسی دیکھنے والی تھی ڈیوٹی پر موجود لیڈی کانسٹیبل اس اچانک ہونے والی تذلیل پر بت بن کر رہ گئی۔اس واقعے نے پورے شہر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے:
”اگر پولیس کی اپنی بیٹی اور وردی پوش اہلکار ان نو دولتیوں کے شر سے محفوظ نہیں، تو کلورکوٹ کی عام خواتین کی عزت و آبرو کی ضمانت کون دے گا؟“

