نیویارک / تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق حالیہ بیان نے عالمی سیاست میں تو ہیجان پیدا کیا ہی تھا، لیکن اس کا اصل فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا جو ‘پولی مارکیٹ’ جیسے پلیٹ فارمز پر مستقبل کی پیشگوئیوں پر جوا کھیلتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد پولی مارکیٹ پر کروڑوں ڈالرز کی ‘انسائیڈ ٹریڈنگ’ ہوئی ہے، جس سے کئی گمنام کھلاڑیوں نے راتوں رات لاکھوں ڈالرز کما لیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے منگل کی رات اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف حملے روک رہے ہیں تاکہ ایرانی حکومت مذاکرات کے لیے ایک ‘متحدہ تجویز’ پیش کر سکے۔ بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی لگتی تھی، لیکن پولی مارکیٹ کے ‘ماہرین’ نے اس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔
: ٹرمپ کے بیان کے باوجود پولی مارکیٹ پر جنگ بندی کی توسیع کے امکانات صرف 20 فیصد دکھائے جا رہے ہیں۔
شرط لگانے والوں کا خیال ہے کہ یہ محض ایک زبانی جمع خرچ ہے اور اسے ‘آفیشل ایکسٹینشن’ تصور نہیں کیا جا رہا۔
جنگ اور امن: 37 ملین ڈالرز کا بڑا کھیل
پولی مارکیٹ پر اس وقت سب سے بڑی شرط امریکا اور ایران کے درمیان مستقل امن معاہدے پر لگی ہوئی ہے، جس کا تجارتی حجم 37 ملین ڈالر (تقریباً 10 ارب پاکستانی روپے) سے تجاوز کر چکا ہے۔
امن معاہدہ: 57 فیصد صارفین کا ماننا ہے کہ 30 جون تک مستقل امن معاہدہ ہو جائے گا۔
امریکی حملہ: حیران کن طور پر 31 فیصد لوگ اب بھی 2027 سے پہلے امریکہ کے ایران پر حملے کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز: 80 فیصد کو یقین ہے کہ ٹرمپ مئی کے آخر تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیں گے۔
‘انسائیڈ ٹریڈنگ’ اور اسرائیل میں گرفتاریاں
سب سے بڑا اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب یہ رپورٹ ہوا کہ اسرائیلی فوج (IDF) کے کچھ اہلکار اور انٹیلی جنس یونٹس کے ارکان ‘خفیہ معلومات’ کی بنیاد پر پولی مارکیٹ پر جوا کھیل رہے ہیں۔
اسرائیلی فضائیہ کے ایک کمانڈر اور ایک فوجی کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے فوجی آپریشنز کے نتائج پر سٹہ لگایا۔
اسرائیلی فوج نے اسے ایک "نیشنل سیکیورٹی انسیڈنٹ” قرار دیا ہے، کیونکہ انٹیلی جنس معلومات رکھنے والے افراد پہلے سے جانتے تھے کہ کہاں حملہ ہوگا اور کہاں نہیں، اور انہوں نے اسی بنیاد پر لاکھوں ڈالرز کمائے۔
پولی مارکیٹ خود کو ایک "ڈیجیٹل اسٹاک ایکسچینج” کہتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کئی ممالک میں قانونی پابندیوں سے بچا ہوا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنماؤں کے بیانات اور حساس فوجی معلومات کو پیسوں کے کھیل میں تبدیل کرنا اخلاقی اور قانونی طور پر ایک بڑا جرم ہے۔
جہاں عام آدمی جنگ کے خوف سے لرز رہا ہے، وہیں بااثر افراد اور ‘انسائیڈرز’ ان حالات کو اپنی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے ایک بیان نے ‘سٹہ بازوں’ کو کروڑ پتی بنا دیا! پولی مارکیٹ پر ‘انسائیڈ ٹریڈنگ’ کا انکشاف؛ جنگ اور امن کے نام پر لاکھوں ڈالرز کا جوا

