قصور (مہر احسان ایڈووکیٹ): ضلع پولیس میں ایک غیر معمولی موڑ آ گیا ہے، جہاں برسوں سے جمی سیاسی مداخلت کو پہلی بار براہِ راست چیلنج کیا گیا ہے۔ ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے دو ٹوک اعلان کر دیا تھانوں کی پوسٹنگ اب کسی اشارے پر نہیں، صرف کارکردگی پر ہوگی اور اصول سادہ ہے، “کام کرو، ورنہ گھر جاؤ۔ اس سلسلہ میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو ایس ایچ او پوسٹنگ کے اہل افسروں کا ریکارڈ چیک کر کے آگاہ کرینگے
پہلے بڑے ویڈیو لنک اجلاس میں ایس پی انویسٹی گیشن، سرکل افسران اور تمام ایس ایچ اوز کو واضح ہدایات جاری کی گئیں۔ کارکردگی کا کڑا جائزہ لیا گیا، 4 ماہ کے دوران ڈاکو چور منشیات فروش گرفتار نہ کرنے والے 13 ایس ایچ اوز کو ناقص کارکردگی پر شوکاز نوٹس جاری ہوئے جبکہ صرف دو افسران تعریف کے مستحق قرار پائے یہ واضح پیغام کہ “اوسط کارکردگی” اب ناقابلِ قبول ہے۔
ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی کہ پہلی بار ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے معاملے میں کسی سیاسی شخصیت کی مداخلت رپورٹ نہیں ہوئی۔ اور جو سیاسی شخصیات کے قریبی ساتھی جو ماضی میں ڈی پی او آفس صبح پہنچ کر معاملات چالاتے انہوں نے بھی اب کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ ڈی پی او آفتاب احمد پھلروان نے افسران کی ترجیح کے مطابق پوسٹنگ کی گنجائش تو دی، مگر شرط سخت رکھی کام صرف ریاستی قانون کے مطابق اور مطلوبہ معیار پر ہوگا، ورنہ عہدہ برقرار نہیں رہے گا۔ ڈی پی او کا لہجہ غیر مبہم تھا “ڈاکو، چور، رسہ گیر اور منشیات فروشوں کے لیے قصور میں کوئی جگہ نہیں۔ جرائم کی بڑھتی شرح کسی صورت برداشت نہیں ہوگی۔ جو ایس ایچ او کارکردگی نہیں دکھائے گا، وہ فورس میں جگہ برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ نئی پالیسی کے تحت شفاف درجہ بندی متعارف کرائی گئی ہے۔ ٹاپ تھری ایس ایچ اوز کو انعامات، “ایس ایچ او آف دی منتھ” سرٹیفکیٹ اور ڈی پی او آفس میں تصاویر کی نمائش دی جائے گی، جبکہ لاسٹ تھری افسران کی پوسٹنگ خطرے میں ہوگی اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ایک خصوصی کمیٹی کرے گی۔
پیغام واضح ہے پولیسنگ اب “پسند و ناپسند” نہیں، “کارکردگی اور نتائج” پر چلے گی۔ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ دباؤ سے بالاتر ہو کر نڈر انداز میں عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں کیونکہ اب بہانے نہیں، صرف نتائج شمار ہوں گے۔
قصور: طاقت کا کھیل ختم، 13 نکمے ایس ایچ اوز کو شوکاز، ڈی پی او آفس راج کرنے والے غائب

